استخارہ کا مقصد، درست طریقہ اور غلط فہمیاں

خود دعا کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کریں، لوگوں نے استخارے کو بزنس بنا لیا ھے

0
478

13382970092جس کا کام ھے اسی کو استخارہ کرنا ھے ، وہ نیک ھو یا بد چھوٹا ھو یا موٹا کالا ھو یا گورا، مرد ھو کہ عورت! سب سے پہلے کام کی نوعیت دیکھے! اگر وہ کام اجتماعی ھے تو سب سے مشورہ کرے اور پھر اللہ پر توکل کرے! مثلا کاروبار ۔ کےبارے میں کاروباری حضرات سے مشورہ کرے، پھر نفل اور اللہ سے دعا کا اھتمام کرے۔ استخارہ کی دعا کے مفہوم پر اگرغور کیا جائے تو بہت آسانی سے بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ بندہ اپنے رب سے اس بات کی دعا مانگ رہا ہے اگر وہ کام دنیا اور آخرت کے لئے بہتر ہے تو اس کام میں اللہ آسانیاں فرما دے اور اگر وہ کام دنیا اور آخرت کے لئے نقصان دہ ہے تو اس کام کے کرنا کو مشکل اور ناممکن بنا دے

استخارے کے لئے نفل نماز اور دعا کا اھتمام کسی وقت بھی کیا جا سکتا ھے اور دعا چلتے پھرتے ، وضو بے وضو ھر حالت میں کی جا سکتی ھے! استخارے کا نیکی بدی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ،ھر شخص اپنا استخارہ خود کرے، بندہ کسی بہانے بھی اللہ سے مکالمہ شروع کر دے ،،پھر اللہ پاک بھی ویسا ھی معاملہ کرتے ھیں، فاذکرونی اذکرکم !!

13382970091استخارے اور خواب کا کوئی تعلق نہیں! اس کا تعلق دل کے اطمینان کے ساتھ ہے، جب تک دل مطمئن نہ ھو یا کام مکمل نہ ہو یا کام ٹل نہ جائے دعا جاری رکھے! حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما نے ایک ایک ماہ استخارہ کیا ھے، جبکہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تین سال استخارہ کیا ھے! اس لئے سبز یا گیروہ عمامہ دیکھ کر انہیں معصوم اور اللہ کا پی اے سمجھ کر ان سے استخارہ نہ کرایں خود دعا کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کریں !!

جبکہ لوگوں نے استخارے کو بزنس بنا لیا ھے! بیوی شوھر سے تو پوچھتی نہیں اور فیشل کر کے بیٹھے ھوئے مولوی صاحبکے سامنے بچھی جا رھی ھوتی ھے! حضرت جی، حضرت جی، گویا حضرت جی استخارے میں امرت دھارا ڈالیں گے!

جواب چھوڑ دیں

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.