Baba Kodda – باباکوڈا

0
539

جس طرح مراثی جتنا مرضی چھپا لیں، جہاں کہیں بھی طبلہ یا ڈھول بجے تو وہ فوراً پہچانے جاتے ہیں، بالکل اسی طرح نیوٹرل قسم کے کھسی دانشور جتنا مرضی چھپائیں، جب بھی کہیں شریف فیملی کی حرامخوری کے خلاف کوئی احتجاجی مظاہرہ ہوتا ہے تو ان نیوٹرل ہیجڑوں کی ساری نیوٹریلیٹی تشریف کے راستے باہر نکل آتی ہے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کا سٹیک ہولڈر طاہرالقادری ہے کیونکہ اس کی جماعت کے کارکنان کو لاہور پولیس نے دن دیہاڑے گولیاں مار کر شہید کردیا۔ سانحے کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظرعام پر آچکی جس میں پنجاب حکومت کو واضح طور پر قصوروار قرار دیا جاچکا۔ چار سال ہونے کو آئے لیکن اس سانحے کے مجرم آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں اور اسی لئے آج لاہور مال روڈ پر طاہرالقادری نے احتجاجی مظاہرے کی کال دی۔

سیاست کے مروجہ اصولوں کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کی اس مظاہرے میں شمولیت ایک قدرتی امر ہے، چاہے وہ اسے سیاسی حکمت عملی کے تحت کریں یا مظلومین کو انصاف فراہم کرنے کی نیت سے، طاہرالقادری کے ساتھ عمران خان تو پہلے دن سے کھڑا ہے، اگر آج زرداری اور مصطفی کمال بھی شامل ہوگئے تو وہ اپنے سیاسی مقاصد کے تحت شامل ہوئے۔ اگر ان کی شمولیت سے شہدا کو انصاف مل سکے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

لیکن ہمیشہ کی طرح پٹواری اور نیوٹرل برقعوں میں چھپے ہیجڑے ایک مرتبہ پھر مراثیوں کی طرح بے نقاب ہوچکے اور آج سارا دن نوازشریف کی محبت میں غلاظت کی الٹیاں کرتے رہے۔

کسی کو کراچی میں ہونے والی ہلاکتیں یاد آنے لگیں تو کسی کو زرداری کی کرپشن۔ کسی نے پوچھا کہ ماڈل ٹاؤن شہدا کے ورثا سٹیج پر کیوں نہیں تو کسی کو لگا کہ مال روڈ پر احتجاج سے لوگوں کی زندگیاں مفلوج ہوگئیں۔

کھوتی کے بچو،

ابھی چند ہفتے قبل جب نوازشریف اپنے ساتھ مریم نواز کو لے کر لندن میں الطاف حسین کی رہائش گاہ پر گیا تھا تو وہ اس سے سانحہ بلدیہ فیکٹری کی مذمت کرنے نہیں بلکہ پاکستان کی فوج اور عدالتوں کے خلاف بھارتی مہم کا حصہ بننے گیا تھا۔ اس وقت تمہیں کراچی کی ہلاکتیں کیوں نہ یاد آئیں؟

زرداری بلاشبہ اتنا ہی کرپٹ ہے جتنا نوازشریف۔ لیکن اگر ن لیگ اسے کرپٹ سمجھتی ہوتی تو اس کے خلاف نیب کے مقدمات ختم کرنے کی بجائے فالو اپ کرکے زرداری کے خلاف کاروائی کرکے لوٹی ہوئی دولت واپس لینے کیلئے اقدامات تو کرتی؟ شہبازشریف جو زرداری کو گھسیٹنے کی قسمیں کھاتا رہا، اس نے بھی پچھلے سال کہہ دیا کہ وہ اس کی غلطی تھی۔ زرداری کرپٹ ہے تو اس کی کرپشن کے خلاف ن لیگ نے کیا کاروائی کی؟

اگر مال روڈ احتجاج سے لوگوں کی زندگیاں مفلوج ہوئیں تو نااہل شریف نے چار دن جی ٹی روڈ پر رودالیوں کی طرح جو رنڈی رونا لگایا، پورے روٹ پر کاروبار اور تعلیمی ادارے بند کروائے گئے، معصوم بچے کو گاڑی تلے کچلا، وہ کس کھاتے میں تھا؟ کیا پاکستان میں پہلی دفعہ آج کسی نے احتجاجی جلسہ کیا ہے جو تم لوگوں کو عوام کی فکر لاحق ہوگئی؟؟؟

رہی بات سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کے ورثا کی سٹیج پر ہونے کی، تو بات یہ ہے کہ ان کے سٹیج پر ہونے یا نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ ایشو ابھی تک زندہ ہے اور اس کا کریڈٹ بہرحال طاہرالقادری کو دینا بنتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ جب نوازشریف غریبوں کے حقوق کی بات کرتا تھا تو اس وقت اس کی کابینہ میں یا اس کی جماعت کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں کتنے غریب لوگوں شامل ہوا کرتے تھے؟

جس طرح ڈھولک کی تھاپ سے مراثی کی پہچان ہوجاتی ہے، بالکل اسی طرح نوازشریف کی حرامخوری کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے سب نیوٹرل اور کھسی قسم کے دانشوروں کی بھی پہچان ہوجایا کرتی ہے!!! بقلم خود باباکوڈا
...

View on Facebook

گٹر کی ذہنیت رکھنے والے پٹواری اب مردان میں چار سالہ بچی کے قتل کو بنیاد بنا کر خوش ہو رہے ہیں کہ اب شہبازشریف پر دباؤ کم ہوسکے گا۔

مردان اور قصور کے واقعے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

مردان کا واقعہ ایک انفرادی فعل لگتا ہے جبکہ قصور میں آج سے ڈھائی سال قبل بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات کا انکشاف ہوچکا ہے اور ان واقعات کا سلسلہ تواتر سے جاری ہے۔

مردان میں کسی ایک شیطان نے یہ گناہ کیا اور مجھے یقین ہے کہ چند دن کے اندر اندر وہ پکڑا جائے گا، دوسری طرف قصور میں بااثر افراد کا پورا گینگ ہے جو حکومتی آشیرباد سے اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث ہے۔

جس طرح پاکستان میں ایک قتل کا واقعہ، امریکہ کے افغانستان اور عراق میں لاکھوں قتل کے جرائم کے برابر نہیں ہوسکتا، بالکل اسی طرح مردان کا واقعہ اور قصور کے واقعات کا کوئی مقابلہ نہیں!!! بقلم خود باباکوڈا
...

View on Facebook

بالفرض آج عمران خان بھی طاہرالقادری کے ساتھ اسی کنٹینر پر موجود ہوا جس پرزرداری موجود ہوا تو کوئی آسمان نہیں ٹوٹ جائے گا۔

کل کلاں کو زرداری بھی اگر رمضان میں عمرہ کرنے حرم چلا جائے تو کیا عمران خان صرف اس وجہ سے حرم نہ جائے کہ وہاں زرداری پہلے سے موجود ہے؟

اصل بات ایشو کی ہے۔ اگر زرداری سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کو انصاف دلانے کی حمایت کرتا ہے تو سو بسم اللہ۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے، اور آج کا احتجاج بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق ہے، زرداری یا نوازشریف کی کرپشن بچانے کیلئے نہیں۔

جس دن عمران خان کسی ایسے کنٹینر پر سوار ہوا جس کا مقصد نوازشریف یا زرداری کی کرپشن بچانا ہوا تو سب سے پہلے اسی پیج سے اس کے خلاف آواز بلند ہوگی۔ خاطر جمع رکھیں!!! بقلم خود باباکوڈا
...

View on Facebook

بابراعوان پیپلزپارٹی دور کا وہ واحد وزیر تھا جس کے پاس نہ تو کبھی دلائل کی کمی رہی اور نہ ہی شائستگی کی، اور اسی وجہ سے وہ گیلانی کابینہ میں میری واحد پسندیدہ شخصیت بھی تھے۔

بطور وزیرقانون، بابراعوان کی پریس کانفرنسز جب بھی ٹی وی پر نشر ہوتیں، ن لیگ کی قیادت میں صف ماتم بچھ جاتیں کیونکہ جو کام ن لیگ والے گالیاں اور منہ سے کف بہا کر کرتے تھے، وہی کام بابراعوان صاحب دلیل اور تہذیب سے کرجایا کرتے تھے۔

شاید آپ کے علم میں نہ ہو کہ 2011 میں بھٹو کے عدالتی قتل کی سپریم کورٹ میں اپیل دائر ہوئی تو اس مقدمے میں بطور وکیل پیش ہونے کیلئے بابراعوان نے وزارت قانون سے استعفی دے دیا، جس کی پاکستانی سیاست میں کوئی روایت نظر نہیں آتی۔

پھر اس کے بعد غالباً جون 2017 میں جب سینیٹر بابراعوان نے تحریک انصاف میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو اس وقت وہ پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر سینیٹ کے رکن تھے۔ انہوں نے آصف زرداری سے ملاقات کرکے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا، پھر سینیٹر کے عہدے سے استعفی دیا اور پھر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ دوسری طرف عائشہ گلالئی سے لے کر نہال ہاشمی تک، ہماری سیاست میں بے شمار روایات ملیں گی جن میں لوگوں نے عزت گنوا دی لیکن پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفی نہ دیا۔

پچھلے تین دن سے میرے انباکس میں بہت سے احباب بالخصوص انصافیوں نے بابراعوان سے متعلق ایک پوسٹ شئیر کرنا شروع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ لطیف کھوسہ کے ساتھ شاہ رخ جتوئی کی طرف سے بطور وکیل پیش ہونے جارہے ہیں۔

کل رات گئے مجھے بابراعوان صاحب کے نہایت قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ ان کی طرف سے شاہ رخ جتوئی یا لاشاری کا وکیل بننے کی خبریں سراسر غلط اور ڈِس انفارمیشن ہے جو میرشکیل الرحمان اور مریم نواز کا پراپیگنڈہ سیل پھیلا رہا ہے۔

ایک بات ذہن میں رکھیں کہ عمران خان کی جماعت میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو مؤثر طریقے سے نہ صرف اپنی جماعت کا دفاع کرسکتے ہیں بلکہ مخالفین کو ننگا بھی کرسکتے ہیں۔ بابر اعوان بھی ان میں سے ایک ہیں اور اگر ان کے خلاف اس وقت پراپیگنڈہ ہورہا ہے تو اس کی وجہ یہی وہ خوف ہے جو مخالفین کو بابراعوان سے درپیش ہے۔

میرا حسن ظن یہی کہتا ہے بابراعوان صاحب نہ تو شاہ رخ جتوئی کی وکالت کریں گے اور نہ ہی لاشاری کی۔ جب تک آپ انہیں عدالت میں پیش ہو کر دلائل دیتے نہ دیکھ لیں، تب تک اس کو محض پراپیگنڈہ ہی سمجھیں۔

ن لیگ کے پاس اس وقت سوائے پراپیگنڈے کے کچھ اور باقی نہیں رہا!!! بقلم خود باباکوڈا
...

View on Facebook

بابر اعوان صاحب کے بارے میں بہت سے لوگوں نے انباکس میں ن لیگ کے میڈیا سیل کی پھیلائی جانے والی خبر شئیر کی ہے۔ انشا اللہ صبح اس کی وضاحتی پوسٹ کردی جائے گی تاکہ صورتحال کلئیر ہوسکے۔

تحریک انصاف والوں سے گزارش ہے کہ تب تک حوصلہ رکھیں اور کسی قسم کے پراپیگنڈے کا شکار مت ہوں!!! بقلم خود باباکوڈا
...

View on Facebook

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.