Baba Kodda – باباکوڈا

0
508

جمشید خان، پی ٹی آئی کا صوبائی وزیر برائے ایکسائز کسی جگہ دورے پر گیا جہاں غالباً عوامی شکایات یا کسی اور وجہ سے اس نے وہاں موجود اسسٹنٹ کمشنر کے ساتھ بدتمیزی شروع کردی۔ اسسٹنٹ کمشنر پہلے تو اس کی بات سنتا رہا لیکن جب بات حد سے بڑھی تو اس نے آگے سے اس منسٹر کو اس کی اوقات یاد دلاتے ہوئے کہہ دیا کہ وہ وزیر نہ تو اس کا افسر ہے اور نہ ہی اسے تنخواہ دیتا ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر کا اتنا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر کے ہوش و حواس گم ہوگئے اور وہ ہکا بکا رہ گیا۔
یہ وہ اعتماد ہے جو خیبرپختون خواہ کی صوبائی انتظامیہ کو عمران خان نے دیا تھا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ عمران خان اپنے جلسے میں کئی بار کہہ چکا ہے کہ بیوروکریسی کسی کی غلط بات مت سنے، چاہے وہ اس کی پارٹی کا لیڈر ہی کیوں نہ ہو۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا جمشید خان کو کھری کھری سنانے کے بعد وہ اسسٹنٹ کمشنر کسی انتقامی کاروائی کا نشانہ تو نہیں بنتا؟ اگر خدانخواستہ ایسا ہوتا ہے تو جمشید خان سے لے کر پرویز خٹک تک، سب کی بینڈ اسی پیج سے نہ بجاؤں تو میرا نام نہیں۔
لیکن غالب امکان یہی ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر کو کچھ بھی نہیں کہا جائے گا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پٹواری اور جیالے اپنے اپنے صوبوں سے کوئی ایک ایسی نظیر لا کر دکھا دیں جس میں ایک افسر نے صوبائی وزیر کے ساتھ اس اعتماد سے بات کی ہو۔
غلامی اور عوامی حاکمیت میں یہی فرق ہے۔ ان کتے کے بچوں نے پنجاب اور سندھ کے صوبوں پر جمہوریت کے نام پر بدترین غلامی اور شخصی آمریت مسلط کئے رکھی - لیکن پی ٹی آئی کی اصل جمہوریت کے ثمرات صرف چار سال میں ہی ظاہر ہونا شروع ہوچکے ہیں۔
یہ فرق صرف عمران خان خان اور نوازشریف کا نہیں، یہ فرق محض انصافی اور پٹواری کا نہیں - یہ فرق حلال اور حرام کا ہے، یہ فرق نطفہ حلال اور نطفہ حرام کا ہے!!! بقلم خود باباکوڈا
...

View on Facebook

نوازشریف نے آج پھر اس ملک کے جہلا کی دانش کا امتحان یہ کہہ کر لینے کی کوشش کہ پانامہ کے نام پر ڈرامہ رچایا گیا اور منتخب حکومت کو اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا۔

گزارش یہ ہے کہ پانامہ کوئی ڈرامہ نہیں بلکہ ایک خوفناک حقیقت ہے جس کی زد میں نوازشریف سمیت بہت سے دوسرے ممالک کے حکمران اور سینئر عہدیداران بھی آئے۔ دوسرے ممالک میں عوامی شعور ہونے کی وجہ سے پانامہ لیکس پر تنقید ہونے کی بجائے صفائیاں پیش کی گئیں اور جس کا دامن صاف تھا، وہ بچ نکلا - جو چور تھا، اسے سزا بھگتنا پڑی۔

پانامہ لیکس کو اسٹیبلشمنٹ کی سازش سمجھنے والے صرف ایک سوال کا اگر تسلی بخش جواب دے دیں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد نوازشریف کے حق میں کیمپین چلاؤں گا۔

سوال یہ ہے کہ:

فروری 2016 سے پہلے نوازشریف فیملی نے آفشور کمپنیوں اور لندن فلیٹس کی ملکیت کا کبھی اعتراف کیا؟ اگر کیا تو تو کب اور کس جگہ؟ اگر نہیں کیا (جو کہ واقعی نہیں کیا) تو اس کی وجہ کیا تھی؟ چھپایا تو چوری اور حرام کا مال جاتا ہے - اگر لندن فلیٹس اور آفشور کمپنیاں حلال کی کمائی سے تھیں تو انہیں 25 سال تک چھپا کر کیوں رکھا گیا؟

چلتے چلتے یہ بھی بتاتا چلوں کہ ان حرامخوروں نے فروری 2016 میں بھی لندن فلیٹس کی ملکیت کا اعتراف نہیں کرنا تھا، وہ تو بھلا ہو عمر چیمے نامی صحافیوں کی طوائف کا، جس نے آئی سی آئی جے کی تحقیقات کے بارے میں جاوید چوہدری کو بتا کر دبئی میں فلیٹ حاصل کیا اور پھر جاوید چوہدری نے ببلو یعنی حسین نواز کا ہنگامی طور پر ٹی وی انٹرویو کرکے پانامہ لیکس ہونے سے چند ہفتے قبل فلیٹس کا اعتراف کروا لیا۔

پٹواری دانشور اور شریف فیملی اگر اوپر پوچھے گئے سوال کا تسلی بخش جواب دے دے تو یہ پیج ن لیگ کے حوالے کرکے میں سوشل میڈیا سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غائب ہوجاؤں گا - اگر نہ دے سکیں تو پٹواری دانشور اپنے لیڈر کو کم از کم حرامخور ضرور تسلیم کرلیں!!! بقلم خود باباکوڈا
...

View on Facebook

اپنی تمام تر سختیوں کے باوجود سردیاں مجھے بہت پسند ہیں۔

بچپن کے دنوں کی بات ہے، جب مختصر سا فاصلہ بھی بہت طویل محسوس ہوتا تھا۔ غالباً میں تیسری جماعت میں پڑھا کرتا تھا، اس وقت مجھے صبح سویرے اٹھ کر ایک کلومیٹر دور واقع پولٹری فارم سے ایک درجن انڈے خریدنے جانا پڑتا تھا۔
ویسے تو ہماری گلی کے موڑ پر بھی پرچون کی دکان موجود تھی لیکن اس پولٹری فارم والے کے پاس تھوڑے سے ٹوٹے ہوئے، تھوڑی سی دراڑوں والے انڈے آدھے ریٹ پر مل جاتے تھے، چونکہ سستے ہوتے تھے، اس لئے جلدی بک جایا کرتے تھے۔ چنانچہ مجھے سورج نکلنے سے پہلے برفیلی ہواؤں میں پیدل چل کر وہاں سے انڈے خریدنے جانا پڑتا تھا۔

ہر روز جب مجھے گہری نیند سے جگایا جاتا، موٹی سی جیکٹ پہننے کو دی جاتی، پاؤں میں جرابیں اور ساتھ قینچی چپل پہن کر پولٹری فارم تک جانا پڑتا تو اپنی بے بسی پر رونا سا آتا، لیکن پھر یہ سوچ کر دل کو تسلی بھی مل جاتی کہ آج پھر آدھے ریٹ پر انڈے ملیں گے، آج پھر کچھ بچت ہوگی۔ ہر روز باہر نکلتے وقت دادی کی آواز کانوں میں پڑتی کہ بیٹا تیز تیز چلو گے تو جسم کو حرارت ملے گی اور سردی کا اثر زائل ہوجائے گا۔ میں اپنے دونوں ہاتھوں کو بغل میں دبا کر، سردی سے کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ تیز تیز چلنے کی کوشش کرتا لیکن پاؤں میں پہنی ہوئی سستی اونی جرابوں اور نیچے قینجی چپل کا تال میل نہ ہونے کے باعث کبھی جوتی اتر جاتی تو کبھی میں لڑکھڑا جاتا۔ یخ بستہ پاؤں کو جب ٹھوکر لگتی تو درد کا احساس کئی گھنٹے تک رہتا۔

انڈے خرید کر واپس آتے ہوئے میں اپنے آپ کو تسلی دیتا کہ ایک نہ ایک دن مجھے اس مشقت سے نجات مل کررہے گی۔ گھر آتا، سکول جانے کی تیاری شروع کردیتا، پھر جب امی گرما گرم پراٹھے کے اوپر آدھی قیمت پر خریدا ہوا انڈا فرائی کرکے رکھ کر ناشتے میں دیتیں تو مجھے انڈے خریدنے کی وہ ساری سختیاں بھول جاتیں۔ 8 سال کی عمر میں بھی مجھے یہ احساس ہوجاتا کہ آج پھر کچھ بچت ہوگئی، آج پھر سفید پوشی کا بھرم رہ گیا، آج پھر میرے بہن بھائی اچھا ناشتہ کرکے سکول جائیں گے۔

ناشتہ کرکے سکول جاتے جاتے دھوپ نکل چکی ہوتی اور میں سب کچھ بھول بھال کر سکول کی مستیوں میں مگن ہوجاتا۔ سکول سے واپس گھر آ کر اور پھر رات کا کھانا کھانے تک میں سب کچھ بھول چکا ہوتا - پھر عشا کی نماز کے بعد امی کی آواز کان میں پڑتی کہ بیٹا جلدی سو جاؤ، صبح تمہیں سب سے پہلے اٹھنا ہوتا ہے - یہ سنتے ہی مجھے اگلی صبح کی مشقت یاد آجاتی اور ایک مرتبہ پھر پریشانی کا احساس لئے لحاف میں گھس جاتا - اگلی صبح وہی سب کچھ دوبارہ کرنا پڑتا۔

وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا، اللہ تعالی ہر انسان پر اپنا کرم ضرور کرتا ہے، میرا بھی وقت پہلے سا نہیں رہا - اللہ کی مہربانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری و ساری ہے۔

اب مجھے صبح سویرے اٹھنا نہیں پڑتا - شہر کی بہترین بیکری سے ناشتے کا سامان گاڑی میں رکھ کر شام کو ہی لے آتا ہوں - فریج اور فریزر میں اللہ کی تمام نعمتیں خوراک کی شکل میں موجود ہوتی ہیں - ہیٹرز وغیرہ کی وجہ سے گھر کا درجہ حرارت بھی 25 ڈگری سے نیچے نہیں آتا - اب کبھی ٹھنڈ میں باہر پیدل نکلنا پڑے تو ڈیزائنر جیکٹس اور پاؤں میں بہترین سپورٹ شوز ہوتے ہیں، گلے میں فیشن کے طور پر سکارف بھی رکھ لیتا ہوں - اب سردی کے موسم میں کی گئی واک عذاب نہیں بلکہ لطف دیتی ہے۔

اب اگر ناشتے میں سری پائے نہ ہوں تو ڈبل چیز آملیٹ، بلیک کافی، کروسان، مکھن جام، شامی کباب اور اورنج جوس جیسے لوازمات لازمی ہوتے ہیں۔ اب سب کچھ موجود ہے لیکن پتہ نہیں کیوں، ناشتہ کرتے وقت وہ ایکسائٹمنٹ اور وہ خوشی نہیں ملتی جو ٹوٹے ہوئے سستے انڈے کو پراٹھے پر رکھا دیکھ کر ملتی تھی۔

آج بہترین اور مہنگا قسم کا ناشتہ کرتے وقت وہ سکون اور اطمینان نہیں ملتا جو بچپن میں یہ سوچ کر ملا کرتا تھا کہ میرے بہن بھائیوں کو میری وجہ سے انڈا پراٹھا کھانے کو مل گیا ورنہ تو چائے کے ساتھ ہی پراٹھا کھا کر سکول جانا پڑتا۔

اللہ تعالی نے خوشی اور سکون جیسے احساسات کو اسی لئے روپے پیسے کے ساتھ منسلک نہیں کیا، ورنہ تو صرف 2 فیصد امیر طبقہ ہی سکون اور اطمینان کی زندگی گزار پاتا۔

اب سردیاں پھر سے آچکی ہیں، اب میرا بہت دل کرتا ہے کہ مجھے پھر سے کوئی صبح سویرے جگا کر سستے والے انڈے خریدنے کیلئے بازار بھیجے تاکہ کہیں وہ ختم نہ ہوجائیں۔ سستی سی جیکٹ، پاؤں میں پھٹی ہوئی جرابیں اور نیچے قینچی چپل پہنے، دونوں ہاتھ بغلوں میں دبائے میں بھاگا بھاگا جاؤں تاکہ جسم کو کچھ حرارت مل سکے - بھاگنے کے چکر میں پاؤں لڑکھڑائیں، ٹھنڈے پاؤں پر چوٹ لگے اور درد کی شدت سے میں وہیں سڑک پر بیٹھ جاؤں۔

اللہ تعالی نے ہماری زندگیوں کے ساتھ جو دکھ تکلیف منسلک کئے ہیں وہ دراصل ہمارے لئے انعام سے کم نہیں۔ اللہ ہم سے 70 ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے، یہ ہونہیں سکتا کہ وہ ہمیں پریشانی میں دیکھ سکے۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں بہت پریشانیاں ہیں تو تھوڑا انتظار کریں - شاید آگے چل کر آپ کو اپنا ماضی یعنی موجودہ وقت بہت مزیدار اور آسودہ لگنے لگے!!! بقلم خود باباکوڈا
...

View on Facebook

جماعت اسلامی کا سورس آف اِنکم وہ چندہ اور قربانی کی کھالیں ہیں جو یہ سارے پاکستان سے اکٹھا کرتے ہیں۔

سوال تو پھر اٹھانا بنتا ہے کہ خلفائے راشدین کا حوالہ دینے والوں کو ایپل کا لیپ ٹاپ لینے کی کیا ضرورت تھی جبکہ اس سے کہیں سستا ونڈوز کا لیپ ٹاپ بھی دستیاب ہے؟

حلوائی کی دکان اور نانا جی کی فاتح۔ کھاتے جاؤ، کھاتے جاؤ!!! بقلم خود باباکوڈا
...

View on Facebook

یہ گانا ون ٹیک میں فلمایا گیا ہے یعنی بغیر کٹ کہے سنگل شاٹ میں پکچرائز کیا گیا۔ میوزک، کوریوگرافی اور ڈانس۔۔۔۔ سب کچھ بہترین ہے

youtu.be/jCEdTq3j-0U
...

View on Facebook

جواب چھوڑ دیں

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.