سکندر حیات بابا

0
682

میری اس نصیحت کو اچھے سے سمجھ لیں

اگر سوشل میڈیا پر کوئی تصویر ملے جس کے ساتھ لکھا ہو کہ یہ بندہ گستاخ ہے یا پھر کوئی قاتل درندہ، یا پھر مفرور ملزم ہے ، تو جب تک کسی آفیشل متعلقہ ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہ ہو ، ہر گز ہرگز اس تصویر کو شیئر نہ کریں ، اگر میری فرینڈ لسٹ میں کوئی ایک بھی بندہ ایسا پایا گیا تو فل الفور نہ صرف انفرینڈ ہوگا بلکہ میں پوسٹ کا سکرین شاٹ لیکر اسکی شان میں حسب توفیق قصیدہ بھی لکھونگا ،آپ سے بھی درخواست ہے اپنی فرینڈ لسٹ میں موجود جاہلوں کے ساتھ ایسا ہی رویہ رکھیں تاکہ اس بڑھتی ہوئی خرابی کو روکا جاسکے

نمبر دو
وڈیو ایڈیٹنگ کوئی راکٹ سائنس نہیں ،خود میرے کم از کم ایک ہزار ایسے سٹوڈنٹس فیس بک پر پائے جاتے ہیں جنہوں نے میرے پاس وڈیو ایڈیٹنگ سیکھی اور وہ کسی بھی طرح کی ایڈیٹنگ کرسکتے ہیں ،سو کسی بھی طرح کے وڈیو کلپ پر ایمان لاکر کسی کی بدنامی کا سبب ہرگز نہ نہ بنیں ،یاد رکھیں ،عدالت میں بھی کوئی وڈیو کلپ یونہی ثبوت نہیں مان لیا جاتا جب تک اسے خاص طرح چیک نہ کر والیا جائے ،یہی حال آڈیو کا بھی ہے ،کسی کی آواز و انداز کی نقل ہر گز کوئی مشکل کام نہیں ،ایسے ایسے پروفیشنل لوگ موجود ہیں کہ آپ کی عقل دنگ رہ جائے (یوٹیوب پر درجنوں کلپس دیکھ جاسکتے ہیں )

نمبر تین
ہمارے معاشرے میں سب سے آسان کام ہے ،کسی بے گناہ پر کوئی الزام لگا کر اسے لوگوں سے پٹوانا .خاص کر اگر الزام کسی عورت کے ذریعے لگایا جائے ،بہت سے شر پسند لوگ خاص مواقعوں سے فائدہ اٹھا کر اپنی ذاتی دشمنیاں نکالتے ہیں ، آج کل بچیوں کے حوالے سے ماحول بہت زیادہ حساس ہوگیا ہے ،تو اگر کوئی شخص کسی کے بارے میں انکشاف کرے یا کچھ لوگ کسی بھی شخص کو پکڑ کر مار پٹائی کرتے دکھائی دیں تو ثواب سمجھ کر آپ ان کے ساتھ شامل نہ ہوں بلکہ فورا' انہیں الگ کروائیں اور قانون نافذ کرنے والے متعلقہ اداروں سے رجوع کریں ،

پچھلے دنوں جب کراچی میں ڈاکوؤں کو پکڑ کر جلانے کی روایت کا آغاز ہوا تو ایک دو جگہ ایسے افراد بھی ہجوم کے ہاتھوں اسکا شکار ہوگئے جو تفشیش و تحقیق کے بعد یقینی طور پر بالکل بے گناہ ثابت ہوئے ،کسی نے بنے بنائے ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بس پہلا تھپڑ مارا اور باقی کا کام عقل کے اندھے ہجوم نے خود انجام دے دیا

خدا سے بے گناہ لوگوں کے حق میں ڈرتے رہیں ، جذبات میں شر پسندوں کے آلہ کار مت بنیں ،

سوچ سمجھ کر شیئر کریں ،آپ جو کچھ شیر کرتے ہیں یہ صرف فیس بک اور ٹویٹر پر شیئر نہیں ہوتا آپ کے اس نامہ اعمال میں بھی ہوتا ہے جو قیامت والے دن سب کے سامنے آپ کو پیش کیا جائیگا

شکریہ

سکندر حیات بابا
...

View on Facebook

بھائی صاحب نے لکھا
''
مسئلہ ہمارے تصوارت اور رجحانات کا ہے۔ ہمارا تصور یہ ہے کہ عورت ذات شہوانیت کا پتلا ہے جسے خدا نے مردوں کی جنسی ضرورت پوری کرنے پر مامور کیا ہوا ہے۔ حد یہ ہے کہ اس تصور کو ہم صحائف سے بھی ثابت کرتے ہیں۔''

پوچھنا یہ ہے
گیس ہیٹر متعلق اس اشتہار میں جو محترمہ کی تصویر چھاپنا ضروری خیال کیا گیا ہے کیا یہ محترمہ محکمے میں کسی عہدے پر فائز ہیں اور بیان جاری کرتے ہوئے اپنی تصویر لگا رہی ہے تاکہ سند رہے اور لوگ اشتہار کو سنجیدگی سے لیں ؟

مجھے لگتا ہے کسی مولوی نے صحیفے سے ثابت کرکے محکمے کو فتویٰ دیا ہے کہ اس اشتہار میں عورت کو ضرور رکھا جائے

عورت ذات کو اشتہار بنانے والے اور اس اشتہار بنانے کو عورت کی آزادی کہنے والے پریشان ہیں کہ عورت محفوظ کیوں نہیں

پلیز
یہ ہرگز مت کہیے گا کہ یورپ میں تو عورت محفوظ ہے ،ہم جانتے ہیں کہ وہ کتنی محفوظ ہے ،اور یہ جاننا محض اپنے گمان پر ہرگز نہیں ،انہیں کے سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر ہے

خیر
گمان نیک رکھنا چاہئے
مجھے یقین ہے کہ ان محترمہ کا گیس بل بہت زیادہ آیا ہوگا یا پھر ان کا گیس ہیٹر ان کی صحت کے لئے نقصان دہ رہا ہوگا تو انہوں نے اپنے پیسوں سے اپنی تصویر کے ساتھ یہ اشتہار خود شائع کروایا ہے ،ہمارے سرکاری محکمے کا اس اشتہار سے کوئی تعلق نہیں ،ورنہ یہ کوئی اتنے احمق تھوڑی ہیں کہ آدھے سے زیادہ اشتہار میں غیر ضروری طور پر ایک عورت کی تصویر لگا کر قوم کے ٹیکس کا پیسہ بے دردی سے برباد کریں

آپ اگر محکمے کو اتنا بےغیرت سمجھتے ہیں تو آپ احمق تاریک خیال اور شدت پسند ہیں

شکریہ

سکندر حیات بابا
...

View on Facebook

دس روپے والا صابن بیچنے کیلئے اشتہار میں لڑکیوں کی ننگی رانیں تم دکھاو

لڑکی کا کھلا گریبان دکھائے بغیر ٹوتھ برش تک تمہارا نہیں بکتا

سکولز کالجز اور یونی ورسٹیز میں کنجر کلچر کو روشن خیالی کے نام پر فروغ تم دو

صرف ریٹنگ اور لائکس کیلئے لڑکیوں کو ڈیٹ مارنے کے حقوق سے لیکر ہم جنس پرستوں کے '' دلچسپ '' حالات زندگی تم پبلش کرو

برہنہ تصاویر پوسٹ کرکے نمبر ون کا اعزاز تمہارا امتیاز ہو

اور جب کچے ذہن بہک کر ماں بہن بیٹی تک کی تمیز کھو دیں تو سٹیٹس بھی تم لگاو کہ مولوی ٹھیک سے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے ،اس لئے ایسے واقعات ہوتے ہیں ،

زینب جیسی معصوموں کے قاتل اور کوئی نہیں یہ لنڈے کے انگریز ہی ہیں ،جنہوں نے
ترقی کے نام پر درسگاہوں کو مجرا ہاوسز میں تبدیل کرکے قوم کے جوانوں کو وحشی بنادیا ہے ، ایسے ہی کسی نوجوان کی اگر خدا نخواستہ ڈاڑھی ہو تو میک اپ سے لتھڑی ہوئی جدید دور کی روشن خیال نائکائیں اپنے رنگین موم بتیوں کے سٹاک میں سے کچھ اٹھا کر انہیں فائیو ستار ہوٹلز کے ٹھنڈے ماحول میں روشن کرکے چیخ و پکار شروع کردیتی ہیں

لیکن جب میرے قوم کی کوئی بسمہ ماری جاتی ہے یا کسی زینب کی عصمت لٹتی ہے اور لوٹنے والے کی داڑھی نہیں ہوتی تو یہ اپنی ان موم بتیوں سمیت یوں گم ہوجاتی ہیں جیسے دھرتی پر کبھی ان کا وجود ہی نہ تھا

فیشن کے نام پر اپنی باجیوں کے لہنگے پہننے والے ان نفسیاتی منافقوں کو لگام دیئے بغیرمحفوظ عفت و عصمت کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا

سکندر حیات بابا
...

View on Facebook

سکندر حیات بابا‎ updated their cover photo. ...

View on Facebook

سکندر حیات بابا‎ updated their profile picture. ...

View on Facebook

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.