حقیقت سے دُور لبرل بیانیے

برانڈڈ دانشور اور کالم نویس حضرات کو ریٹاءر ہی ہو جانا چاہیے

0
559

چند روز پہلے محترم مظهر صدیقی صاحب نے مری فیس بک وال پر پوچھا تھا کہ کیا “لاهور میں پٹرول کے بحران کی وجه سے ایبولنس سروس بھی تو بند کر دی گئی هو گی.کوئی لاهور کا دوست اس بارے میں ضرور بتائے”

 میں نے اس کے جواب میں لکھا کہ۔۔۔

مرنے اور لاشیں ڈھونے کے لیے ہر سہولت میسر ہے۔ ایمبولینس زیادہ تر یہاں لاشیں ڈھونے کا کام ہی کرتی ہے۔ باقی اگر ہسپتال میں ڈاکٹر ہی نہ پہنچ سکیں تو ایمبولینس سروس کس کام کی؟

اس کے نیچے میرے ایک دیرینہ دانشور اور منجھے ہوءے چوٹی کے روشن خیال کالم نویس دوست کا یہ کمینٹ۔۔۔

 “میں ابھی ڈاکٹرز ہاسپٹل سے آ رہا ہوں جہاں ہمارے عزیز از جان دوست ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو کر زیر علاج ہیں ۔ میں نے کئی گھنٹے قیام کے دوران ڈاکٹروں کو پوری تن دہی سے مریضوں کی جان بچاتے دیکھا۔ پٹرول کی قلت کے باوجود ڈاکٹر نہ صرف یہ کہ تشریف لائے بلکہ کئی ڈاکٹرز کو ایندھن بچانے کے ئے چھوٹی گاڑیوں پر ہسپتال آتے بھی دیکھا۔”

اسے کے نیچے میں نے صرف اتنا لکھا تھا کہ۔۔۔

“ڈاکٹرز ہاسپٹل لاہور کا سب سے مہنگا نجی ہسپتال ہے”

 مقصد یہ سب بتانے کا صرف اتنا ہے کہ ہمارے ہاں برانڈڈ دانشور اور کالم نویس حضرات زمینی سچ اور عمومی سماجی حالات سے اس قدر دور ہو چکے ہیں کہ اب انھیں بھی ریٹاءر ہی ہو جانا چاہیے۔ وہ ہر طرح کے جراءم سے بھرے معاشرے میں محض پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہاءی محدود مدت کا کتب خانے والا مطالعہ پیش کر کے دوہزار پندرہ کے حالات پر تجزیہ نگاری کرتے ہیں۔ کیا انھیں علم نہیں کہ مہنگے نجی ہسپتالوں کے ڈاکٹرز کا معاوضہ بھی دوسروں سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے؟ اگر کوءی انتہاءی اعلی معاوضہ لینے کے بعد ایک نجی ہسپتال میں اپنی ذمہ داری اور فراءض اچھے طریقے سے انجام دے رہا ہے تو اس میں بڑاءی کیا ہے؟ یہ نجی ہسپتال اور اعلی معاوضہ مثال عام زندگی سے کیا تعلق رکھتی ہے؟ ڈاکٹرز ہاسپٹل سے نیچے ہزاروں کے حساب سے نجی ہسپتال اور ان کے بھی بعد سرکاری ہسپتالوں کی باری آتی ہے۔ بلا شبہ ہم دہشتگردی، جہالت سے لے کر عقل و دانش تک ہم ہر طرح کے بحران کا شکار ہیں۔ موصوف کی یہ مثال ایسے ہی تھی کہ جیسے کوءی کہے کہ بحریہ ٹاون میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی بجلی نہیں جاتی پاکستانی شور کیوں مچاتے ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ آپ یہاں نوجوانوں کو روشن خیالی اور لبرل ازم پر پر بڑے بڑے سیمینارز میں لیکچر دیتے ہیں۔ بڑے چینلز پر بیٹھ کر تجزیہ نگاری اور پاکستان میں سیکولرازم کی نماءندگی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا متوسط اور غریب یعنی نوے فیصد طبقہ کی اکثریت حقیقت سے دور روشن خیالوں کے بیانیے سے کبھی متفق و متاثر نہیں ہوتی۔ اور اس کم علمی، کمزور بسیرت و مشاہدے کی وجہ سے داءیں بازو کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی طرف چلی جاتی ہے۔

 یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے ان براءے نام روشن خیالوں میں میرا دوست اکیلا نہیں۔ عاصمہ جہانگیر اور ماروی سرمد جیسے اور بھی بہت سے لوگ ہیں جو حقیقی سماجی مساءل و حقاءق سے ناواقف بے پر کی دانش بھگارتے رہتے ہیں۔ خدا خدا کر کے فوجی عدالتوں کی صورت دہشت گردوں کو سزا دینے کے عمل کی ابتدا ہونے جا رہی ہے اور یہ صاحبان جو ہمیشہ سے مذہب، مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف لیکچرز جھاڑتے رہے ہیں اب یہ اس سارے عمل کو متنازعہ بنانے کی کوششوں مین مصروف ہیں۔ کسی کو لگتا ہے کہ سزا دینے سے دہشت گردی ختم نہ ہوگی، کوءی کہتا ہے کہ کسی ایک فکر کے لوگوں کو نشانہ نہ بنایا جاءے۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ کسی ایک فکر کے لوگوں کو نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ یہ ملک سب کا ہے۔ لیکن اگر پچانوے فیصد دہشت گردوں کا تعلق ہی کسی ایک فکر سے ہو تو کیا کیجیے گا؟ تو کیا قاتلوں کو محض اس بنیاد پر چھوڑ دیجیے گا کہ ان کا تعلق ایک ہی فکر سے لہذا اگر انھیں سزا دی گءی تو ملک میں تقسیم بڑھے گی’ فرقہ واریت پھیلے گی؟ یہ کیا دلیل ہے؟ فرقہ واریت پہلے کونسی کم ہے؟ بات تو قاتل اور دہشت گردی کی ہے۔ جو بھی معصوم انسانوں کا قاتل ہے اس کو سزا دو چاہے وہ کسی بھی مسلک ،فکر یا نظریے کا حصہ ہو۔ ایک اور اہم بات جس کو یہ لوگ مکس کر رہے وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی ہے۔ ان کے مطابق ہر انتہا پسند دہشت گرد ہے۔ جبکہ انتہا پسندی ہر مذہب، فکر، نظریہ اور رنگ نسل میں موجود ہے۔

 ہندوستان میں شو سنہا انتہا پسند تنظیم ہے۔ لیکن کیا شو سنہا کے لوگ اسی طرح اپنے ہم مذہب لوگوں کے سر کاٹ کر فٹبال کھیلتے ہیں کہ جیسے طالبان؟ کیا دنیا کے دیگر حصوں میں انتہا پسند تنظیمیں اسی قدر منظم طریقے سے اپنی فوج اور شہریوں پر خود کُش حملے کرتی ہیں اور گلے کاٹتی ہیں؟ بلا شبہ انتہا پسندی ایک لعنت اور دہشت گردی کا بنیادی عنصر ہے مگر دہشت گردی اور انتہا پسندی قطعی طور پر ایک برابر نہیں ہیں۔ میری نظر میں تو ٹیری جونز اور وہ فرانسیسی اخبار کے بانجھ تخلیق کار جو محض کارٹون بنانے کو انسانیت کی خدمت جانتے ہیں وہ بھی انتہا پسند ہیں۔ لیکن کیا وہ انسانوں ذبح کرتے ہیں’ ان کے سروں سے فٹبال کھیلتے ہیں’ کیا وہ بچوں اور بچیوں کو حصول تعلیم سے روکنے کے لیے انھیں قتل کرتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ لہذا آج کے حالات میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی مختلف شکلوں کو ایک جیسا سنگین جرم قرار دینا شاید دہشت گردی کی وکالت کے مترادف سمجھا جاءے گا۔

 باقی جہاں تک دست نے ڈاکٹرز ہاسپٹل کی قابلیت کا ذکر کیا ہے تو وہ قصہ کچھ یوں ہے کہ امریکہ سے کچھ پاکستانی ڈاکٹرز واپس آءے تھے اور انھوں نے آ کر یہاں عوام اور ملک کی خدمت کے لیے جدید ہاسپٹل اور اصل میں مہنگا ترین ہسپتال بنانے کا دعوی کیا تھا۔ میرے ماموں ڈاکٹر ہاسپٹل زیر علاج رہے تھے۔ ایک دن میں ڈھاءی لاکھ سے اوپر خرچ ہو رہا تھا۔ جبکہ پچاس ہزار کے اوپر نیچے صرف وہاں کمرے کی فیس تھی۔ اس کے علاوہ ایک دوست کے والد جو میرے حقیقی ماموں جیسے ہی تھے وہ بھی یہاں داخل رہے۔ اتفاق سے دونوں میں سے کوءی بھی زندہ گھر نہیں لوٹا۔ تیسری مثال ڈاکٹر ہاسپٹل کی نا اہلی کی یہ تھی کہ میرے چھوٹے بیٹے ساون کو گر کر چہرے پر کٹ لگ گیا تھا۔ ایمرجینسی میں وہاں لے کر گءے تو ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر صاحب نے انکھ کے پاس زخم پر کاسمیٹک اسٹچنگ کی بجاءے پرانی طرز کے ٹانکے لگا دیے۔ یعنی چہرے کے زخم پر وہ وہ دھاگہ استعمال کیا جو وقت کے ساتھ ڈسالو بھی نہیں ہوتا۔ یاد رہے کہ کاسمیٹک اسٹچنگ کی صحولت سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجینسی میں اس سے کم و بیش دس سال پہلے کی موجود تھی۔

 میرا اور میری بیگم کا جب حادثہ ہوا تو ان کی تھوڑی کا کافی حصہ پھٹ گیا تھا۔ کچھ اللہ والے جب ہمیں پمز ہسپتال اسلام آباد لے کر آءے تو وہاں نوجوان ڈاکٹرز کی ایک ٹیم نے ان کی کاسمیٹک اسٹچنگ کی تھی۔ یہ ایک طرح کی پلاسٹک سرجری سے پہلے کی احتیاط ہے کہ جس میں ٹانکوں کے نشان نہیں پڑتے اور دھاگہ بھی وقت کے ساتھ خود ہی گل جاتا ہے۔ لہذا کبھی بھی خدا نخواستہ آپ کے کسی عزیز دوست یا رشتہ دار کو چہرے پر کٹ لگے تو آپ اس بات کا خیال ضرور رکھیں۔ بہر حال ڈاکٹرز ہاسپٹل کتنا جدید، معیاری، فرض شناس اور پروفیشنل ہے اس کا اندازہ آپ میرے بیٹے کی غلط سٹچنگ سے لگا سکتے ہیں۔ تاہم یہ مہنگا ترین ضرور ہے۔ شروع شروع میں اسے امریکن کوالیفاءڈ ڈاکٹرز والی کہانی سے کافی شہرت ملی تاہم وقت کے ساتھ اس کے بہت سے بلنڈر اور اسکینڈلز سامنے آءے۔ باقی یہ ہسپتال برانڈ کانشس عوام چھل اتارنے میں کافی ماہر ہے۔ یعنی ہم وطنوں کو لوٹنے کے لیے میاں منشاء کی طرح یہ بیانیہ کہ اچھی بھلی زندگی چھوڑ چھاڑ کر اور اپنا سب کچھ لے پاکستانیوں کی خدمت کے لیے پاکستان آگءے۔

جواب چھوڑ دیں

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.