مکڑی، بچھو، تلور، کالا ہرن اور چھتر تھور

مگر شاید ہماری دور کی نظر تیز اور نزدیک کی کمزور ہے

0
566

بظاہر کیکٹس” نما اس پودے کا بوٹینیکل نام کم از کم مجھے معلوم نہیں مگر وسطی پنجاب کے علاقے چونیاں کی مقامی زبان میں اسے “چھتر تھور” اور سرحد کے اُس پار مشرقی پنجاب میں لوگ اسے “کنڈیالی تھور” کے نام سے جانتے ہیں۔ جگجیت سنگھ کے ایک بہت خوبصورت پنجابی گیت کی شاعری اسی پودے کی مناسبت سے ہے۔

“میں کنڈیالی تھور وے سجناں اُگی وچ جو بیلے
نہ کوءی میری چھاویں بیٹھے نہ پت کھاون لیلے”

شعر کا ترجمہ بہتر نہیں کر سکتا مگر اس کا مفہوم کچھ ایسے ہے کہ شاعر خود کو اس [ کنڈیالی] کانٹوں والے پودے سے تشبیح دے کر کہہ رہا ہے کہ میں اس کانٹوں والے پودے کی مانند ہوں جو انسانوں سے دور صرف [بیلہ] ویرانے میں اُگتا ہے۔ یہ اتنا بے مقصد ہوتا ہے کہ نہ تو کوءی مسافر اس کے ساءے میں بیٹھ سکتا ہے اور نہ ہی ویرانوں میں گھاس چرنے والی بھیڑ بکریاں اس کے [پت] پتے کھاتی ہیں۔

وسطی پنجاب کے راستہ بدل جانے والے دریاءے بیاس کے کٹاءو کے نتیجے میں بننے والے مٹی کے ٹیلوں، ویرانوں اور قبرستانوں پر اُگنے والے اس خودرو پھل دار پوداے کے پتوں پر نسبتا موٹے اور پھل کی اُوپری سطح پر بہت باریک روءوں جیسے کانٹے ہوتے ہیں۔ بچپن میں ہم دوستوں کے ساتھ ٹیلوں پر جاتے اور اس سے جھولیساں بھر کر بہت سارے پھل توڑ لاتے۔ بعد میں سڑک پر بیٹھ کر ان پھلوں کو رگڑتے اور دھو کر کھا لیتے۔ باوجود اس کے کہ کچھ بڑے بوڑھے اسے جہنم کا پھل مانتے تھے۔ پتا نہیں اھوں نے زندگی میں مرے بغیر کیسی جہنم دیکھ لی تھی جو وہ اسے جہنم کا پھل اور چاءے کو جہنم کا مشروب بتلاتے تھے۔ میں نے زیتون، کلونجی، زعفران اور ایلویرا جیسی بیرونی اجناس کی مُفت کی تشہیر اور انھیں سو بیماریوں کا علاج بتانے والے مومین سے کبھی اس مقامی کا جنس ذکر نہیں سُنا۔ ہندوستان نے جڑی بوٹیوں اور جنگلی پودوں پر بہت سی تحقیق کی اور آج وہ نہ صرف ہربل میڈیسن میں دنیا سب سے آگے ہے بلکہ اس کے ذریعے ایک کثیر زرمبادلہ بھی کما رہا ہے۔ مگر ہماری کاہل نا اہل قوم کے پڑھے لکھے طبقے نے بھی اس پر کوءی خاص توجہ نہیں دی۔ مجھے نہیں معلوم کہ کبھی کسی لیبارٹری نے اس پودے اور اس کے پھل کا کیمیاوی تجزیہ کر کے بتایا ہو کہ اس میں انسان کے لیے کیا فاءدہ مند یا نقصان دہ ہے۔ اس کی کیمیاوی کمپوزیشن کیا ہے؟ اور اگر کبھی کسی نے کی بھی ہوگی تو اس کی مناسب تشہیر نہیں ہوءی ہوگی۔ کیا نوکریوں اور پیسہ کمانے کی خاطر پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر حضرات اس قابل بھی نہیں ہیں کہ اس کو نویں دسویں جماعت کی حیاتیات کی کتاب میں شامل کرسکیں؟ کیا جانے قدرت نے کس زہر کا تریاق اور کس بیماری کا علاج اس جنگلی پودے میں چھپا رکھا ہو؟ اور یہ کوءی اکلوتا پودا نہیں تھا جو کسی توجہ اور تشہیر کا حقدار نہ ٹھہرا۔ گزشتہ دنوں جب تصویریں بناے کی غرض سے چونیاں جانا ہوا تو یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ بہت سی جڑی بوٹیاں جو بچپن میں دکھاءی دیتی تھیں اس بار وہ نظر نہیں آءیں۔ آبادی کے پھیلاءو، کمزور منصوبہ بندی اور حیاتیات میں عدم دلچسپی کی وجہ سے بہت سی قدرتی جڑی بوٹیاں ختم ہوچکی ہیں۔ اور اسی بنیاد پر بہت سی جنگلی حیات بھی یا تو مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے یا پھر معدوم ہونے کے خطرات سے دو چار ہے۔ میرے شہر چونیاں کا بیشتر رقبہ دراصل دریاءے بیاس کا پیٹ تھا جو کہ مالکی نہ تھا مگر پنجاب کے ہر مشہور سرمایہ دار نے پاکستان کی اس امیت ترین تحصیل میں زمینیں خریدیں۔ کیسے خریدیں اس کے لیے کوءی احتساب بیورو نہیں ہے۔ بعض جگہوں پر تو ایک زمیں کی بیس بیس رجسٹریاں موجود ہیں۔ ابھی چند دنوں سنا ہے کہ نواز لیگ کے مقامی ایم این اے رانا اسحاق صاحب نے بھی وہاں کسی بیوہ کی سو ایکڑ زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ چونیاں کی برادرز شوگر مل اور اس کی ستر مربے زمین کی رجسٹری آج بھی سنتے ہیں کہ میاں شہباز شریف کے نام ہے۔ اور اب پٹوار کا ریکارڈ کیمپیوٹر آءز کیا جا رہا ہے۔ ناجاءز پر جاءز کی آخری مہر لگانے کا یہ اچھا طریقہ ہے۔

گزشتہ دنوں عرب شہزادوں کی مردانگی بحال کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے انھیں تلور کے شکار کے 27 لاءسنس دے ڈالے۔ اس نایاب پرندے کے جس کی نسل اس وقت ختم ہونے کے قریب ہے۔ یعنی جو اکثر پاکستانی بچوں کے دیکھنے تک کو میسر نہیں وہ عرب شہزادوں کی جنسی اور تفریحی خواہشات کے لیے حاضر ہے۔ نایاب نسل کے ہرنوں کا شکار اور عقابوں کی عرب شہزادوں کو فروخت پرانی خبر ہے۔ نءی خبر جو کم از کم میرے لیے نءی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان بلوچستان کے علاقے سے سیاہ مکڑی اور بچھو پکڑ کر امریکہ کو فروخت کیے جا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ یہ دھندہ کر رہے ہیں وہ اسے ایک امریکی کمپنی کو فروخت کرتے ہیں جسے حکومت پاکستان کی طرف سے اجازت نامہ دیا جا چکا ہے۔ سنا ہے کہ یہ مقدمہ اعلی عدلیہ کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے مگر معزز عدالت نے اسے زرمبادلہ کا اچھا زریعہ مانتے ہوءے اس کے خلاف درخواست رد کر دی تھی۔ اس بچھو اور مکڑی کی خاصیت یہ بتاءی جاتی ہے کہ یہ تابکاری کے علاج میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یعنی کسی بھی قسم کے نیوکلیر اٹیک یا ایٹمی ری ایکٹر کے حادثے کی صورت میں اسے استعمال کیا جاءے گا۔ یہ دونوں قسمیں منوں کے حساب سے کروڑوں روپے میں بیچ کر قانونی اور غیر قانونی طور پر ڈالر کماءے جا رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ اتنی بڑی یا وزنی چیز ہے کہ جس کی تجارت منوں اور ٹنوں کے حساب سے کی جاءے؟ اور کیا کسی حادثے یا نیوکلیر اٹیک کی صورت میں پاکستانیوں کو ایسی کسی شے کی ضرورت نہیں ہوگی؟ ایسی کوءی جنس اگر امریکہ میں پاءی جاتی تو شاید پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم کے لیے بھی ایک مکڑی یا ایک بچھو نہ ملتا۔ مکڑی، بچھو، تلور، کالا ہرن یہ سب ہمارے لیے چھتر تھور ہی ہیں۔ مگر پڑھی لکھی دنیا کاءنات کی کسی چیز کو بے مقصد نہیں جانتی بالکل ویسے ہی جیسے ہمارے سیانے کہہ گءے کہ قدرت نے دنیا میں کوءی شے بے مقصد پیدا نہیں کی۔ مگر شاید ہماری دور کی نظر تیز اور نزدیک کی کمزور ہے۔ کسی کو براءی صرف باہر نظر آتی ہے اور کسی کو اچھاءی۔ جبکہ اچھاءی اور براءی دونوں یہیں موجود ہیں۔ ہمارے اندر۔ ہمارے ارد گرد۔

جواب چھوڑ دیں

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.