خودکش حملے اورقرآنی احکامات

ہم اپنے آپ کو ہر طرح کے حساب کتاب سے ماورا سمجھ رہے ہیں؟

0
421

اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس نے اپنے پیروکاروں کی اخلاقی اور روحانی دونوں اعتبا ر سے تربیت کر کے انکو اس بات کی جانب راغب کیا ہے کیاہے کہ وہ نہ صرف اپنے لئے جہدوجہد کریں بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کی بھی مدد کریں اور آگے بڑھنے میں مدد کریں ،انکا خیال رکھیں اوراپنی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شریک کریں نہ کہ انکے دلوں کودکھی کریں۔قرآن کریم کا موضوع ہی انسان ہے تو اس میں انسان کے لئے ہر حوالے سے احکامات موجود ہیں جس پر وہ عمل کر کے اپنی زندگی کو پرسکون طریقہ کارکے مطابق بسر کر سکتا ہے ۔مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ہم مسلمانوں نے خاص طور پر اس الہامی کتاب کے احکامات پر عمل درآمد کرنا تقریباََ چھوڑ ہی دیاہے جس کی وجہ سے ہم گونا گوں مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔قرآن مجید میں بیان کردہ احکامات ہر دور کے لئے یکساں ہیں ۔یہ طرہ امتیاز اسی آسمانی کتاب کو حاصل ہے کہ اس میں زیر زبر تک کی ہیر پھیر ممکن نہیں ہے اور اس میں بیان کردہ احکامات پر کسی بھی لمحے انسان عمل کرکے اپنی نجات کو ممکن بنا سکتا ہے۔قرآنی احکامات محض ایک دو موضوعات پر مبنی نہیں ہیں یہ اُن تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں جس سے انسان کو واسطہ پڑتاہے۔آج اسی حوالے سے میں ان احکامات کا خاص طور پر ذکر کروں گا جو کہ ہمارے لئے آج کے موجودہ دور میں بے حد کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں اگر ہم اُن پر خلوص نیت سے عمل پیرا ہو جائیں۔

وقت کے گذرنے کے ساتھ ساتھ مسلمان دین سے دور ہونے لگے ہیں اور آج حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ وہ غیر مسلم اقوام کے ہاتھوں ذلیل ورسوا ہو رہے ہیں۔ وہ دین کی باتوں پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔جن میں سے سب سے اولین اہمیت نماز کی ہے ،سب سے زیادہ نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے مگر ہم کسی نہ کسی بہانے سے اس حکم سے روگردانی کرے ہیں اورکہتے ہیں کہ حقوق العباد معاف نہیں ہونگے تو وہ ادا کرنا ضروری ہیں ،جبکہ حقوق اللہ تو وہ ذات باری معاف کر سکتی ہے۔نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے میدان کربلا میں بھی اس کو ادا کیا تھا ۔نماز ہی کے بارے میں روز محشر سب سے: پہلے پوچھا جائے گا تو ہم اس اللہ کے حکم سے کہ نماز قائم کرو ،جو اسکی الہامی کتاب میں سات سو سے زائد مرتبہ آیا ہے تو کیوں اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں؟ نماز تو کسی بھی صورت میں معاف نہیں ہے تو پھر ہم لوگ کیوں اذان سن کر بھی نماز کی ادائیگی سے کیوں گھبراتے ہیں ؟ کیا ہم اس قدر گناہ گار ہیں کہ اللہ کے دربار میں حاضری سے بھی ڈرتے ہیں؟ نماز کو دین کا ستون کہا جاتا ہے او رہم اس ستون کے بنا ہی اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔نماز کی اہمیت کے حوالے سے درج ذیل آیتوں کا ملاحظہ کیجئے ۔

اے محمد ﷺ سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک(ظہر،عصر،مغرب،عشا کی) کی نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کرو،کیوں کہ صبح کے وقت قرآن کو پڑھنا موجب حضور(ملائکہ) ہے۔
سورہ بنی اسرائیل 17۔آیت نمبر78

صبر اور نما کے ذریعہ( اللہ تعالیٰ سے) سے مدد طلب کرو۔ییہ (نماز) بہت بھاری ہوتی ہے سوائے ان لوگوں کے جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔(سوراہ البقرہ:54)

گناہگاروں سے پوچھ رہے ہونگے کہ آخر دوذخ میں کون سی چیز گھسیٹ لائی تو وہ لوگ کہیں گے کہ ہم نہ تھے نماز پڑھنے والے( سورہ المدثر ۔آیت 41۔43)

تم سب اللہ کی عبادت کرو،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ،ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو،قریبی رشتہ داروں اور یتیموں اورمسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ،اور پاس والے پڑوسی سے،اجنبی ہمسایہ سے،ہم مجلس اور راہگیر (مسافر) سے اور اپنے غلاموں اور لونڈیوں سے جو تمہارے قبضے میں ہوں،احسان کا معاملہ رکھو ،یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو قطعاََ پسند نہیں کرتا جو(غرورسے) اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور(بڑے فخر سے) شیخی کی باتیں بگھارتا ہے۔(سورہ النساء ترجمہ آیت 36)

والدین کی اطاعت کے حوالے سے مذکورہ آیت کو اگر آج کی ہماری نوجوان نسل ہی پڑھ لے تو شاید ان میں سدھار ممکن ہو سکے جو کہ اپنے ماں باپ کی نافرمان ہو چکی ہے اور انکو قتل تک کرنے سے باز نہیں آتی ہے جس کا اندازہ اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ہم نام نہاد مسلمان ہیں اگرایسا نہ ہوتا تو قرآنی احکامات کی یوں دیدہ دلیری کے ساتھ خلاف ورزی نہ کر رہے ہوتے۔ رشتہ داروں اور یتیموں اورمسکینوں کے ساتھ جوآج کے دور میں ہم سلوک رکھ رہے ہیں وہ ہم سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ،آپ میں سے اکثر لوگوں نے یتیموں کے حق کو بھی مارتے دیکھا ہوگا اور تنگ دستوں کو دھتکارتے بھی دیکھا لیا ہوگا۔ہم اپنے ماں باپ کی نافرمانی کر کے کبھی دنیا میں خوش و خرم نہیں رہ سکتے ہیں ،جو والدین کی فرماں بردار اولاد ہوتی ہے وہ کبھی دنیا میں اپنی جائز خواہشتات سے محروم نہیں رہ سکتی ہے کہ جس سے باپ راضی ہوتا ہو اُس سے خدا کیسے ناراض ہوگا؟ او پھر ماں کے پاؤں میں جنت رکھی ہے تو اللہ کے احکامات جو کہ قرآن میں موجود ہیں کوئی عمل کرتا ہے تو پھر کیسے وہ رب جو اپنے بندہ کو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے ،اپنے بندے کو جنت سے محروم رکھ سکتا ہے۔

بہت سے لوگوں اس قرآنی حکم کو آج تک نہیں سمجھ سکے ہیں اور آپس میں گلے شکوئے کرتے رہتے ہیں کہ ہم کو کیوں غریبی میں رکھا ہوا ہے؟ ہمارا دوست یا ہمارا پڑوسی تو بہت دولت مند ہے پھر ہم کو اس قدر دولت سے کیوں محروم رکھ کر یوں ہمیں دنیا میں تنگدستی کا شکار کیا گیا ہے؟ایسے لوگ اس قرآنی حکم کو بغور پڑھ لیں تو شاید انکی زندگی آسان ہو جائے۔

رہا دنیا کا رزق ،تو اللہ کو اختیار ہے ،جسے چاہے بے حساب دیتا ہے۔(سورہ البقرہ:213)

ہمارے آج کل کے معاشرے میں سچ بولنے والوں کی بہت کم لوگ قدر کرتے ہیں اور ہرجگہ بیچارہ سچا انسان شرمسار ہورہاہے کہ وہ کہاں آکر پھنس گیا ہے۔قرآن میں جابجا سچ بولنے کی تلقین کی گئی ہے لیکن پھر بھی ہم لوگ اس پر عمل نہیں کر تے ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کو اسکی اہمیت کے بارے میں ذیادہ شدومد سے آگاہ کرتے ہیں کہ کہیں ہمیں انکی وجہ سے شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے۔ہماری باوجود کوششوں کے بھی بعض اوقات ہمارا جھوٹ چھپ نہیں پاتا ہے ایک سچ کو چھپانے کے لئے ہزا ر جھوٹ بول کربھی کچھ حاصل نہیں ہو پاتا ہے کیونکہ سچ بہرحال سامنے آہی جاتاہے۔اس حوالے سے قرآنی احکامات اس قدر سخت ہیں کہ اپنے خونی رشتوں کے خلاف بھی سچ بولنا پڑے تو حکم ہے کہ وہ بھی بولا جائے مگر ہم لوگ مفادپرستی کو اللہ کے حکم پر ترجیح دیتے ہیں اور آج کے دور میں سچی گواہی دینے سے بھی جان چلی نہ جائے تو دینے سے باز رہتے ہیں۔

ہمارے سیاستدانوں کے بیانات بھی ہمارے سامنے ہیں کہ پاکستان جیسے اسلامی مملکت میں کس طرح سے وہ اپنی سیاست کی دکانداری کو چمکا رہے ہیں ہرروز اپنی باتوں سے مکر جاتے ہیں ؟صرف اپنے مطلب کی خاطر دوسروں کو الو بنا کر بیان دیئے جاتے ہیں کہ ہماری باتیں حرف آخر نہیں ہیں؟جناب جب زندگی کا کچھ پتا نہیں کہ کب ختم ہوجائے تو حضرت انسان کی باتوں پر اعتبار کرنا تو بے وقوفی ہی ہوئی نا؟جب چور اپنی چوری آسانی سے تسلیم نہیں کرتا تو ایک جھوٹا شخص کس طرح سے اپنی باتوں کو جھوٹ تسلیم کرے ۔آپ خود فیصلہ کرلیجئے دہشت گردی کے خاتمے، بجلی ، بے روزگاری،منہگائی سے نجات اور خودکش حملوں کے خلاف کیا کچھ بیانات نہیں آتے ہیں حالات جوں کے توں ہی ہیں؟آخر سچ بول کے دوسرے ایماندار لوگوں کو انکے فیصلہ کن کردار کیوں ادا نہیں کرنے دیا جاتاہے ۔جب ہم جانتے ہیں کہ سچ کبھی نہ کبھی سامنے آنا ہی ہے تو پھر ہم لوگ کیوں جھوٹ کے پردے میں سچ کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں ؟آج کل موبائل فونز پر،انٹرنیٹ چیٹنگ اور روزمرہ کی گفتگو میں جھوٹ بولنے شاید اس بات سے بے خبر ہوچکے ہیں کہ وہ اپنے اعمالوں کا کسی روز حساب کتاب دیں گے؟لیکن شاید ہم لوگ اس قدر بے حس ہوچکے ہیں کہ ہمیں آخرت کے نفع کی بجائے دنیا کے مفاد ذیادہ عزیز ہو چکے ہیں ہم اپنے آپ کو ہر طرح کے حساب کتاب سے ماورا سمجھ رہے ہیں ۔ اللہ ہم پر رحم فرمائے(آمین)۔سچ بولنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہمیں کچھ یاد نہیں رکھنا پڑتا ہے جب کہ جھوٹ بول کر بہت سی باتوں کو یاد بھی رکھنا پڑ جاتا ہے۔سچ بول کر ہم بہت سی مشکلات اورمسائل سے بچ سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ذرائع ابلاغ اوربالخصوص والدین کو اپنے طور پر بھرپور کوشش کرنی چاہیے کہ نوجوان نسل سچ کی اہمیت سمجھے اورسچائی کو معاشرے پھیلانے میں اپنا کردار سرانجام دے تاکہ روز حشر اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ کے سامنے شرمسار نہ ہونا پڑے۔

آج کل خامخواہ ایک دوسرے پر غصہ کرنے کا رحجان بھی بڑھتا جا رہا ہے ،خاوند اپنی بیوی پر،ماں باپ اپنی اولاد پر اور مالک اپنے نوکر پر غصہ کر کے اسے اپنے رعب میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اُ ن سے اپنے کام کاج کروا سکیں ۔ایسے لوگ اگر قرآن احکام کو اس حوالے سے پڑھ لیں تو انکی ذات میں سدھار ممکن ہے ۔ابھی قرآن کی اسی آیت کو لیجئے جو کہ میں یہاں پیش کر رہا ہوں۔

اور غصہ کے ضبط کرنے والے لوگوں سے درگذر کرنے والے اور اللہ تعالیٰ ایسے نیکوکاروں کو محبوب رکھتا ہے۔ (3:134)

سورہ البقرہ میں ہے کہ اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو،اور سلوک واحسان کرو،اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔قرآن میں جا بجا بیان ہوا ہے کہ اپنی دولت کو ایک جگہ مرکوز کر کے مت رکھیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کریں اور اللہ اس دولت کو ہماری سوچ سے بھی زیادہ بڑھا کر ہمیں پھر سے عطاکرتا ہے مگر بہت سے کم عقل لوگ بھی اس قرآنی حکم کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا پھر وہ جیسے کہ قرآن میں ہی ہے کہ کچھ لوگ کان رکھتے ہیں مگر سنتے نہیں ہیں،زبان رکھتے ہیں مگر بولتے نہیں ہیں ،دیکھتے ہیں مگر سمجھتے نہیں ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں کو اتنا کچھ عطا کیا ہوا ہے کہ ہم اس ر ب کا شکر اداکرنے کے قابل نہیں ہیں مگر پھر بھی وہ ذات ہمیں بس دیئے جارہی ہے اور ہماری دولت سے اُس کو کوئی نفع نہیں پہنچ سکتا ہے جبکہ اُسکی عطا کردہ دولت سے ہم اپنے لئے آسائش وغیر ہ خرید سکتے ہیں۔

بہت سے لوگ ایسے بھی دنیا میں ہیں جو اُس واحد لاشریک کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود بنالیتے ہیں یا کسی اور کو سب کچھ عطا کرنے والا سمجھتے ہیں؟ یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کی اللہ نے کوئی معافی نہیں رکھی ہے اور باقی تمام گناہ وہ بخشنے والا ہے ۔ہم میں سے اکثر لوگ گمراہی میں مبتلا ہو کر شرک کر جاتے ہیں اور ہمیں اس کی خبر تک نہیں ہوتی ہے۔اللہ کے ہاں بس شرک ہی کی بخش نہیں ہے ،اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتا ہے ،جسے و ہ معاف کرنا چاہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ گمراہی میں بہت دور نکل گیا۔سورہ النسا ۔آیت116

عدل اللہ تعالی کی صفت ہے۔ قران میں بھی باربار اس بارے میں احکام بیان کئے گئے ہیں۔قران میں ایک جگہ پر اس کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ ’’میں بند وں پر ظلم نہیں کرتا ‘‘جبکہ دو سرے مقام پر یہ بات یوں کہی گئی ’’اے رسولﷺ جب آپ انکے درمیان فیصلہ کریں تو عدل کے ساتھ فیصلہ کریں بیشک اللہ تعالی ٰ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ جبکہ سورۃ شوری میں اسطرح سے حضور ﷺ کی زبان سے قران میں کہلایا گیا کہ’’کہو مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ تمھارے درمیان عدل کرو‘‘۔

وقت کے گذرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف اسلام کے دعویٰ دار ممالک بلکہ غیر مسلم معاشرے میں بھی عدل وانصاف کی فراہمی کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے جس کی بناء پر مختلف انواع اقسام کے مسائل پیدا ہوتے جارہے ہیں۔ڈاکڑ عافیہ صدیقی کی مثال ہمارے سامنے ہے جس کو ناکردہ گناہوں کی سزا دی ہے ۔حالانکہ وہ پہلے ہی بہت اذیت اور تشد د کا سامنا کر چکی ہے لیکن عدل وانصاف کے دعویٰ دار امریکہ اس کو شاید اپنے خلاف آواز بلند کرنے کی سزا دینے پر تلا ہو ا ہے ۔اور ہمارے اسلامیہ جمہوریہ پاکستان میں موجود ہیومین رائٹس کی تنظیمیں اور سیاست دان اپنے مطلب پرستی کی سرگرمیاں میں مصروف ہیں کسی کو اپنی مسلم بہن کی پکارسن کر اس کو انصاف فراہم کرنے کی فکر نہیں ہے ۔شاید ہم لوگ بے حس ہو چکے ہیں جب تک خود پر کچھ نہ ہو کسی کے لئے بھلا کرنے کی توفیق نہیں ملے گی۔ چند اسلامی ممالک کی حد تو عدل وانصاف کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے لیکن ہمارے ارض پاک میں قیام کے آغاز سے ہی اس کے بارے میں ایسا سلوک کیا گیا ہے کہ حقدار بھی اپنے حق سے دستبرار ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔

قرآن میں عورتوں کے ساتھ بھی انصاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور انکو اپنی زندگی آزاد و مرضی سے بسرکرنے کا حق دیا ہے مگر آج اس پر بھی بہت کم عمل درآمد کیا جاتا ہے۔بہت سے حق ،حق کا نعرہ لگانے والے ہی انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں پھر بھی کہتے ہیں کہ وہ انصاف پسند ہیں۔انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ قرآن کے احکامات کے مطابق مرد اُسی وقت چار شادیاں کرے جب وہ ہر ایک زوج کے ساتھ انصاف کر سکتا ہو،اگر ایسا نہ کیا تو وہ روزمحشر اس بابت خداوندکریم کو جواب دہ ہوگا؟اسکے ساتھ رشوت کا رجحان تو عام پاکستان میں ہوچکا ہے جبکہ اس حوالے سب بھی قرآنی احکام سخت ہیں مگر ہم ہیں کہ تنخواہ کے علاوہ رشوت لینا بھی اپنا فرض سمجھتے ہیں اور جو دیتے ہیں انکی وجہ سے جو نہیں دے سکتا ہے وہ بھی بحالت مجبوری دیتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرآنی احکامات کو سمجھ کر اپنی زندگیوں کو گذاریں تاکہ معاشرے میں بدامنی ختم ہو سکے اور روزمحشر ہم حضورﷺ اور اللہ کے سامنے بھی سرخرو ہو سکیں۔

حصہ
گزشتہ مضمونکیا یہ پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس تھا؟
اگلا مضمونمکڑی، بچھو، تلور، کالا ہرن اور چھتر تھور
مجھے ذوالفقار علی بخاری کہتے ہیں۔میں مثبت سوچ کا حامل انسان ہوں جسے مشاہدہ کر کے سیکھنے ،سکھانے اور دوسروں کی حوصلہ افزائی کرنا پسند ہے کہ ابلاغ عامہ اور بی ایڈ کی ڈگری نے کچھ مخفی صلاحیتوں کو بھی ابھار دیا ہے جس سے دوسروں کا بھلا کرنے کی جستجورہتی ہے ۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنے ماحول اوراردگرد موجودلوگوں سے سیکھنے کی کوشش کی ہے۔ زندگی کے تجربات و مشاہدات کو دوسروں سے بیان کرنا بھی دل چسپ مشغلہ لگتا ہے ،بچپن سے کچھ لکھنے کی خواہش ہوئی تو خاموش طبع ہونے کی وجہ سے قلم پکڑ کر اپنے احساسات و جذبات کو لکھ کر اس شوق کو مختلف رسائل وجرائد میں چھوٹی چھوٹی تحریریں بھیج کر پورا کیا

جواب چھوڑ دیں

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.