کیا یہ پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس تھا؟

پیسے والوں کا پیسہ لگا کر قیادت سنبھلانا بھی کونسا نیا عمل ہے؟

0
420

ٹھیک سے سال یاد نہیں مگر وہ انیس سو بیاسی یا تراسی کی سردیوں کی ایک دوپہر تھی۔ ہمارے وسطی پنجاب کے گاوں چک نمبر اٹھارہ میں دو چار پاءیوں پر کوءی دس بارہ جوان اپنے ایک ہاتھ میں جوتا تھامے بیٹھے تھے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد شور اُٹھتا تھا “مار، مار ہور زور نال مار” پھر کوءی بولتا اب میری باری ہے۔ اور پھر وہی شور اٹھتا مار مار زور سے مار” پھر آواز آتی “نءی اس پر تھوک پھینک کر اور پھر جوتا مار” میں کوءی دس گز کے فاصلے پر کھڑا تھا۔ دور سے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کس چیز کو مارنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ چیز مر کیوں نہیں رہی۔ تجسس میں بے ارادہ قدم اٹھتے گءے اور میں ان کے قریب پہنچ گیا۔ ان کے گھیرے کے درمیان کچی زمین پر کوءی ایک ڈیڑھ انچ کی چھوٹی سی تصویر کا اخباری تراشہ پڑا تھا۔ تصویر جنرل ضیا کی تھی۔ نوجوان باری باری اس پر تھوک پینکتے، جوتا مارتے اور جب تک تصویر پھٹ کر مٹی میں غاءب نہ ہو جاتی تب تک یہ عمل جاری رہتا۔ اور یوں وہ ہر روز جنرل ضیا کو جان سے مارتے۔ یہ ان کی جنرل ضیا سے نفرت اور بھٹو صاحب سے محبت کا اظہار تھا۔

نوجوانوں کی جنرل ضیا سے کوءی زاتی دشمنی نہ تھی۔ ان میں سے کسی کو بھی جنرل ضیا نے نہ کوڑے مارے تھے اور نہ ہی جیل بھیجا تھا۔ یقینا اس نفرت کا اصل محرک پاکستان کے مقبول ترین لیڈر کی پھانسی اور اس کی محبت میں سیاسی جدوجہد کرنے اور جیل جانے والے ان کے اپنے ڈاکٹر رضا عسکری اور ان جیسے سینکڑوں دوسرے کارکن تھے۔

ندیم فاروق پراچہ نے اپنے کالم میں لکھا کہ جنرل ضیا کے دورہ سندھ کے موقعہ پر کسی نے کتے پر جنرل ضیا لکھ کر اسے جنرل ضیا کے اسکواڈ کے آگے سے گزار دیا تھا۔ پھر ایک شخص درخت سے کودا اور سیدھا جنرل ضیا کی مرسڈیز کے سامنے کھرا ہوا اور اپنی دھوتی اٹھا کر بولا “بھلی کر آیا، بھلی کر آیا”۔ آج جب پیپلز پارٹی کے جیالوں کو تحریک انصاف اور عوامی تحریک والوں کو اخلاقیات کا سبق دیتے دیکھتا ہوں تو رونے کے ساتھ ہنسی آتی ہے۔

جنرل ضیا نے اپنے دور آمریت میں بہت سے غلط فیصلے کیے۔ کچھ فیصلے ایسے تھے کہ جن کو ملک میں جاری فرقہ وارانہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی بنیاد مانا جاتا ہے۔ مگر بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ وہ ہے کہ جس کی وجہ سے لوگ آج بھی اس سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ کوءی فخریہ انداز میں یہ بتاتا ہے کہ اس نے اور اس کے دوستوں نے ضیا کی قبر پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا تھا۔ جو کہ بہر حال کسی صورت درست فعل نہیں ہے مگر جمہوری لیڈر کو پھانسی دینے والی نفرت کی آگ اسے بھی درست سمجھتی ہے۔ کوءی ضیا کی قبرپر لیٹے آوارہ کُتے کی تصویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر کے اپنا غصہ ٹھنڈا کر رہا ہے۔

مگر افسوس اس بات کا ہے کہ نفرت کی اس طویل داستان سے خود پیپلز اپرٹی کی قیادت نے کوءی سبق نہیں سیکھا۔ جنرل ضیا سے لوگ زاتی یا براہ راست متاثر نہیں ہو رہے تھے مگر آج نواز شریف کے فیصلوں سے لوگ براہ راست متاثر ہوءے ہیں۔ جنرل ضیا نے ملک میں مہنگاءی کا طوفان کھڑا نہیں کیا تھا۔ سیاسی کارکنان بھٹو بھٹو کی محبت مین جلوس کالتے اور وہ اپنے غیر آءینی اقتدار کے دفاع مین ریاستی طاقت استعمال کر کے انھیں جیلیں بھیجتا، تشدد کرواتا، کوڑے لگواتا یا پھر ان کی زبانیں ہمیشہ کے لیے خاموش کروا دیتا۔ کل جب ماڈل ٹاون میں پنجاب پولیس کے ہاتھوں چودہ لوگ مارے گءے تو وہاں ابھی تک براءے نام جمہوری تک حکومت کے خلاف کسی قسم کی عملی جدوجہد کا آغاز بھی نہیں ہوا تھا۔ مگر زرداری صاحب مقتولین کو دلاسہ اور پرسہ دینے کی بجاءے جمہوری حکومت کو سہارا دینے جاتی عمرہ پہنچ گءے۔ زرداری صاحب دوسروں کو سیاست سکھاتے ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کے اس ایک فیصلے کی وجہ سے عوام کے دلوں میں کے لیے قدر شدید نفرت پیدا ہوءی۔ وہ جاتی عمرہ اس جمہوری حکومت کو سہارا دینے گءے جو محض چار سیٹوں کی دھاندلی کی غیر جانبدار تحقیقات سے گھبرا رہی ہے۔ آج انہی چار سیٹوں پر بروقت تحقیقات نہ کروانے کی وجہ سے نواز لیگ کے سارے مینڈیٹ پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ عمران خان کی طرف سے دھاندلی کی تحقیقات کے مطالبے نے سب کو ننگا کر کے رکھ دیا ہے۔ حکومت اور اس کے اتحادیوں کا تحقیقات سے فرار شکوک و شبہات کو یقین میں بدل رہا ہے۔ ایک ستر کے انتخابات کو چھوڑ کر باقی تمام جھوٹ کا پلندہ محسوس ہوتے ہیں۔ ہر دوسرا شہری یہی محسوس کر رہا ہے کہ جیسے پاکستان میں انتخابات محض دنیا کو دکھانے اور لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے کرواءے جاتے ہیں۔ یہ سوچ جمہوریت کے مستقبل کے لیے کتنی خطرناک ہے عقل و دانش سے پیدل دو نمبر جمہوریت پسند اسے سمجھ ہی نہیں سکتے۔ ان لوگوں کے نزدیک عمران خان کے چیخنے چلانے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ لیکن اگر دو ہزار تیرہ کی انتخابی دھاندلی کی شفاف تحقیقات نہ ہو سکیں تو پاکستان کی اکثریت کا جمہوریت سے اعتماد ہمیشہ کے لیے اُٹھ جاءے گا۔ اور اس کا فاءدہ کسی اور کو نہیں بلکہ براہ راست داعش جیسی جہادی تنظیموں کو ہوگا۔

آصف زرداری اور نواز شریف کے حامی یہ فیصلہ کر لیں کہ انھیں پاکستان کو کس طرف لے کر جانا ہے۔ صاف شفاف تحقیقات کے بغیر پاکستان مین جمہوریت کا کوءی مستقبل نہیں۔ دھاندلی کی تحقیقات معاملہ اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ اب اگرعمران خان خود بھی تحقیقات کے مطالبے سے دستبردار ہو جاءے تو وہ بھی موجودہ انتخابی نظام پر لوگوں کا اعتماد بحال نہیں کر سکے گا۔

یوم تاسیس کے حوالے سے مزید صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ یہ کسی طور بھی پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس نہیں ہو سکتا۔ دوستوں کا خیال ہے کہ میاں منظور وٹو اور ان کی صاحبزادی پیپلزپارٹی کی پنجاب مین بحالی کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنا گھر بھی پیپلز پارٹی کا سیکریٹیریٹ بنا دیا ہے۔ مگر پیسے والوں کا پیسہ لگا کر قیادت سنبھلانا بھی کونسا نیا عمل ہے؟ باقی پیپلز پارٹی پنجاب میں ایک ہزار وٹو بھی لے آءے تو جب تک آصف زرداری اپنا موجودہ غیرعوامی، غیر مقبول، غیر معقول اور نواز دوست طرز سیاست ترک نہیں کرتے تب تک کم از کم پپنجاب میں پیپلز پارٹیَ کی بحالی کا کوءی امکان نہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.