راجہ گدھ کے بچے

آخر ان کے مقاصد کیا ہیں؟

0
654

ایک عرصہ سے بول ٹی وی کی دھوم مارکیٹ میں سناءی دے رہی ہے۔ تاہم اس کے پیچھے کون ہے یا اس کے مالکان کون ہیں؟ یہ بات ابھی تک ایک معمہ ہی ہے۔ ایک سینیر صحافی، اور قابل احترام دوست نے اس کے بارے میں کافی عرصہ پہلے مجھ سے کچھ معلومات شءیر کی تھیں۔ شروع میں میں نے ان کی بات پر کچھ خاص توجہ نہیں دی کہ ان کا تعلق بھی پاکستان کے بڑے میڈیا گروپ سے ہے تو میرا خیال تھا کہ یہ ان کے گروپ کی طرف سے پراپیگنڈہ مہم بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم مختلف اینکرز کی طرف سے اپنے اچھے بھلے معروف ٹی وی چینلز چھوڑ کر جانے کی جو پیشگی اطلاع انھوں نے دی تھی وہ حرف بہ حرف درست نکلی تو اب میں حاصل کردہ معلومات پر محتاط انداز میں لکھنے پر مجبور ہوں۔

محترم دوست کی غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق بول ٹی وی کے مالکان میں داود ابراہیم کا نام بھی شامل لیا جا رہا ہے۔ تاہم اسی دوست کی اطلاعات کے مطابق تنخواہیں ادا کرنے کا بیڑا ملک ریاض نے سمبھال رکھا ہے۔ مالکان مین باقی کون لوگ شامل ہیں ان کانام انھوں نے نہیں بتایا۔ جیو ٹی وی نیٹورک کے اظہر عباس نے بطور صدر اور چیف ایگزیکٹو اور جیو ہی کے کامران خان نے بطور پریزیڈنٹ اور چیف ایڈیٹر بول ٹی وی سے وابستہ ہو چکے ہیں۔ غیر ممصدقہ اطلاع کے مطابق دونوں حضرات بالترتیب ایک ایک کروڑ بیس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔ یعنی کل ملا کر دو کروڑ چالیس لاکھ۔ ان کے بعد سات اینکرز بالترتیب ایک کروڑ روپے تنخواہ وصول کر رہے ہیں جن میں جیو ٹی وی کے سینیر اینکر افتخار احمد [ افتخار فتنہ]، سید تلعت حسین، وسیم بادامی، جیسمین منظور، عاصمہ شیرازی اور اُسامہ غازی وغیرہ شامل ہیں۔ کل ملا کر نو لوگ ایک کروڑ یا اس سے زیادہ ماہانہ تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ بول ٹی وی کی تشہیری مہم تو باقاعدگی سے جاری و ساری ہے مگر اس کی لانچنگ بار بار تاخیر کا شکا ہو رہی ہے۔ ذراءع کے مطابق ان کے پاس ابھی تک اس کا ڈکلیریشن بھی موجود نہیں اور مشنیری بھی ابھی تک امپورٹ ہونا باقی ہے۔ چوٹی کے اینکرز کو بھاری تنخواہوں پر ملازمت دینے کے علاوہ متعلقہ عملہ اور ٹیکنیکل سٹاف ابھی تک نہیں رکھا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ مزکورہ ٹی وی چینل کے ان تمام اینکرز کو نہ صرف بھاری معاوضہ دیا جا رہا ہے بلکہ انھیں ایک ایک بُلٹ پروف مرسڈیز کار بھی دی جا رہی ہے۔ افتخار احمد، کامران خان اور اظہر عباس کو یہ گاڑیا ں پہلے سے دی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ان نوں کے صاحبان کے پیکیج میں ایک ایک لکژری فلیٹ بھی شامل ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ بول ٹی وی کے نچلے طبقے یعنی چپڑاسی یا خاکروب کو بھی پینتیس ہزار تنخواہ دی جا رہی ہے یا دی جاءے گی۔ یہاں ایک بات واضع کرتا چلوں کہ اس تمام انفارمیشن کا کوءی کاغذی ثبوت موجود نہیں۔ ذراءع کے مطابق یہ بھاری تنخواہیں مزکورہ بالا حضرات کے زاتی اکاءونٹس میں براہ راست ٹرانسفرکی جا رہی ہیں۔ لہذا اس کی تصدیق یہ حضرات خود ہی کر سکتے ہیں۔ مگر اس کے امکانات صفر کے برابر ہیں۔ تاہم اگر اس ریاست میں کوءی ایف بی آری نام کا دارہ حقیقت میں موجود ہے تو وہ ان حضرات یا ان کے عزیز و اقارب کے اکاءونٹس میں حالیہ دنوں میں منتقل کی جانے والی رقوم سے ان کی تنخواہوں کا اندازہ بخوبی کر سکتا ہے۔ اگر یہ تمام باتیں درست ہیں تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ اتنے سارے اینکرز کی خدمات چینل آن آءیر کرنے سے اتنا عرصہ پہلے حاصل کرنے کا کیا مطلب ہے؟ یعنی اتنا عرصہ پہلے کام کیے بغیر انھیں گھر پر بٹھا کر کھلانے سے آخر کیا مقاصد حاصل کیے جا رہے ہیں؟ جس حساب سے بھاری معاوضے دیے جا رہے ہیں اس کے مطابق شاید صرف تنخواہوں کو بوجھ کروڑوں یا عربوں روپے میں چلا جاءے گا۔

 سوال یہ ہے کہ اس چینل کو لگانے سے عوام کو کیا ٹی وی میں سے ملک شیک کا گلاس پیش کیا جاءے گا جو وہ صرف اسی چینل کو لگا کر بیٹھے رہیں گے؟ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ہی ملک میں نیوز چینلز کی بھرمار ہے تو اتنا خرچہ کرنے کے بعد کیا انھیں ان کے اخراجات کے مطابق وصولی بھی ہو سکے گی کہ نہیں؟ اس چھوٹی سی مارکیٹ میں جہاں پہلے ہی نیوز چینلز کا کہرام برپا ہے وہاں یہ کتنا بزنس حاصل کر لیں گے جو اس پر اتنا خرچ کیا جا رہا ہے؟ ظاہری سی بات ہے کہ ہر طرح کے اشتہارات وصول کرنے کے باوجود اتنا پیسہ کمانا مشکل ہوگا۔ تو پھر آخر ان کے مقاصد کیا ہیں؟ نیک مقاصد میں چند لوگوں کو تو نہیں نوازا جاتا۔ پھر یہ نو فرشتہ صفت اینکرز؟ ملک میں سرمایہ داروں کی کھینچا تانی میں عوام کو پیادوں کی طرح آپس میں لڑوایا جا رہا ہے اور میڈیا اور اینکر پرسنز ٹولیوں میں بٹے طرفین سے پیسہ وصول کر رہے ہیں۔ کہیں میاں برادران، میاں منشاء، آصف زرداری اور میر شکیل الرحمن کی لاءن سیدھی ہے تو کہیں یہ حضرات میدان میں کود رہے ہیں۔ عمران خان دن رات سرمایہ داروں کی کرپشن کا رونا روتے ہیں لیکن چند ایک کو چھوڑ کر باقی تمام چوٹی کے سرمایہ داروں سے انھیں بھی کوءی اختلاف نہیں ہوتا۔ جبکہ جہانگیر ترین اور خورشید قصوری تو ان کی پارٹی کے اہم عدیدار بھی ہیں۔ جس غریب، معاشی و سماجی طور پر پسماندہ ریاست میں ڈاکٹر سے لے کر انجنیر، ڈیزاءنرز اور دیگر شعبوں کے اعلی تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ لوگ سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہیں وہاں پاکستانی سرمایہ دار کی بدنیتی یا معاشرے میں پھیلی مکمل بدعنوانی کا اندازہ لگانے کے لیے اس سے بہتر اور کیا پیمانہ ہو سکتا کہ اینکر پرسنز کو پہلے لاکھوں [ جو کہ ثابت شدہ حقیقت ہے ] اور اب کروڑ سے اوپر تنخواہ ادا کی جا رہی ہے؟ روایتی میڈیا مالکان نے اپنی بلیک میلنگ سے لوگوں کو کچھ ایسا راستہ دکھا دیا ہے کہ ایک ایک کر کے تمام سرمایہ دار اپنے زاتی نیوز چینلز کھولنے مین دلچسپی لے رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ریاست ایک مردہ جانورہے اور یہ سرمایہ دار، اینکر پرسنز، سرکاری ملازمین، سول ملٹری بیورو کریسی، جج صاحبان، سیاستدان سب کے سب چھوٹے بڑے گدھ ہیں جو اس کو ہر طرف سے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا راجہ گدھ سینتالیس مین اُڑ کر انگلستان چلا گیا مگر اپنے بچے اس بے یارو مددگار لاش کو بھنبوڑنے کے لیے یہیں چھوڑ گیا۔

نوٹ: واضع رہے کہ بول ٹی وی کے حوالے سے تمام معلومات کے لیے “غیر مصدقہ” کا لفظ احتیاطا استعمال کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.