آکسفرڈ اُردو انگریزی لغت ۔دنیا کی تیسری بڑی لغت

0
1157
بھئی ہم اس قدر بھی گئے گذرے نہیں ہیں جتنا ہماراذرائع ابلاغ شور صبح شام مچاتا رہتا ہے ۔ہم نے سنا ہوا ہے کہ انگریز ی کی لغت دنیا کی سب سے بڑی لغت ’’آکسفرڈ انگلش ڈکشنری‘‘ ہے۔لیکن جناب ہماری اپنی ’’ اُردو لغت‘‘ بھی کسی سے کم نہیں ہے ۔یہ انگریزی اور جرمن لغات کے بعد تیسری بڑی لغت ہے جو کہ 2010میں 22جلدوں میں مکمل ہوئی ہے ؟ تو جناب آپ نے اس میڈیا پر جو دن رات ملک وقوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہے اس پر یا اخبارات و رسائل میں بڑے پیمانے پر اس حوالے سے کوئی خبر سنی ہے نہیں سنی ہے تو جناب ایسی آزادی رائے کا کیا فائدہ جو ایسی عمدہ خبریں تو بیان ہی نہ کر سکے؟سچ بتائے گا آپ میں سے کتنے ہیں جو اس سے پہلے اس تاریخی لغت کے حوالے معلومات رکھتے تھے؟

اس تاریخی لغت میں اُردو زبان کے تمام تر الفاظ سمو دیئے گئے ہیں بلکہ کتابوں کے بھی حوالے ساتھ میں دیئے گئے ہیں جن سے انکا مفہوم اور استعمال بھی واضح ہوتا ہے۔اُردو لغت بورڈ نے بہت عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے مگر اب اس کو وقت کے تقاضوں کو بھی پورا کرنا چاہیے، اسکو اسکین کر کے ڈسک پر منتقل کرناچاہیے جیسا دوسرے ناول ،جرائد وغیرہ PDF FORMATمیں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اس کو بھی اسی شکل میں لے آنا چاہے تاکہ وہ لوگ جو 22جلدوں کو خرید کر رکھنے ،سنبھالنے سے ڈرتے ہیں وہ بھی باآسانی اس سے فائدہ حاصل کر سکیں۔ مزید براں یہ کہ اس ساری لغت کو اپنی ویب سائٹ پر بھی ڈال دینی چاہیے تاکہ ضرورت مند آسانی سے کسی بھی لفظ کے معنی تلاش کر سکیں اس کی کوئی فیس نہیں ہونی چاہیے نہ ہی ویب سائٹ کا ممبر بننا ضروری ہونا چاہیے ،کیونکہ انجمن ترقی بورڈ کاروباری ادارہ نہیں ہے بلکہ عوام کے پیسہ سے چل رہا ہے۔نیز انجمن ترقی بورڈ کو اپنی ویب سائٹ انگریزی کے ساتھ ساتھ اُردو میں بھی بنانی چاہیے ،پہلے تو یہ ممکن نہیں تھا لیکن اب اردو انٹرنیٹ کے لئے استعمال ہو سکتی ہے۔

یہاں پڑھنے والوں کی دلچسپی کیلئے بتاتا چلوں کہ انجمن ترقی اردو کی بنیاد اس دور میں پڑگئی تھی جب یہ واضح ہوگیا تھا کہ اب انگریز ہندوستان چھوڑ کر چلے جائیں گے اور برصغیر آزاد ہو جائے گا۔اب ہندوستانی عوام بالخصوص مسلمانوں کے ذہن میں یہ سوال بھی آ رہا تھا کہ اب ہندوستان میں مختلف تہذیبی اور مذہبی اکائیوں کی کیا حیثیت ہوگی اور انکا کیا مستقبل ہوگا۔اسی زمانے میں اُردو کے مستقبل کا سوال بھی لوگوں کے ذہنوں میں گردش کرنے لگا ،برصغیر میں ہی اس زبان کا جنم ہوا تھا جس میں بڑی تعداد میں عربی اور فارسی کے الفاظ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ شامل ہو چکے تھے اور اسکا رسم الخط بھی فارسی جیسا تھا جو کہ عربی سے مماثلت رکھتاہے۔یہی وجہ تھی کہ اُردو کا وجود مسلمانوں کے ساتھ جڑ گیا تھا۔ اُردو کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں ہر دیگر زبان کا لفظ شامل ہو کر بھی اُردو کا اپنا حقیقی لفظ لگنے لگتا ہے جو کہ اس زبان کی وسعت انگیزی کوظاہر کرتا ہے۔اس زمانے میں ہندو سنسکرت کو ہندوستان کی قومی زبان قرار دینا چاہتے تھے جبکہ مسلمانوں کیلئے اپنی تاریخ، تہذیب وتمدن اور قومی بقا کیلئے لازمی ہوگیا تھا کہ وہ اُ ردو کے تحفظ کیلئے اقدامات کریں ورنہ انکی اپنی کوئی جداگانہ تشخص برقرار نہ رہتا اور نہ ہی کوئی الگ پہچان زبان کے حوالے سے ممکن ہوپاتی۔تب ہی مولوی عبدالحق اور انکے ساتھیوں نے مل کر انجمن ترقی اُردو کی بنیا د رکھی۔مولوی عبدالحق کا خواب تھا کہ اُردو کی ایسی جامع لغت تیار کی جائے جیسی طرطانیہ میں آکسفورڈ وسیع تر انگریزی میں بنائی گئی ہے۔انہوں نے اُردو کیلئے برصغیر کے مختلف علاقوں کا دور ہ کیا اور تقریروں کے ذریعے لوگوں کواُردو کی امداد کیلئے آمادہ کیا۔ اس طرح سے مولوی عبدالحق نے ہندوستان میں انجمن ترقی اُردو کی شاخوں کا ایک جا ل سا پھیلا دیا تھا۔وقت گزرتا رہا مولوی عبدالحق اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے تھے اس دوران قیام پاکستان بھی وجود میں آچکا تھا۔اکتوبر1948میں بھارت کے اس وقت کے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد نے مولوی عبدالحق سے کہا’’تم یہاں کام نہیں کر سکتے ہو‘‘ یہاں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں تم پاکستان چلے جاؤ۔مولوی عبدالحق اپنا سامان باندھ کر پاکستان آگئے اور یہاں 28جنوری 1949کو کراچی میں انہوں نے انجمن ترقی اُردو کی بنیاد رکھی اور لغت پر کام دوبارہ شروع کر دیا۔

اور چند سالوں بعد جون 1958میں وزرات تعلیم نے ایک قرارد اد کے ذریعے ’’ترقی اردوبورڈ‘‘ قائم کیا ۔اسی ادارے کا نام اب’’اردو لغت بورڈ‘‘ ہے۔اس ادارے کی لائبریری میں نادر و نایاب کتب اور قلمی نسخے بھی موجود ہیں جو دہلی کی آتش زنی سے بچ گئیں تھی جن کو مولوی عبدالحق جن کو ’’ بابائے اُردو‘‘ بھی کہا جاتا ہے اپنے ساتھ ٹرنکوں میں بھر کر ساتھ لائے تھے۔اُردو لغت بورڈ پاکستان کا قدیم اور نہایت معتبر ادارہ ہے جس نے اپریل 2010میں 52سال کی محنت اور عرق ریزی کے بعد تاریخی اصولوں پر تیار کی جانے والی اُردو کی لغت کا کام مکمل کر لیا ہے۔یہ ایک عظیم الشان علمی اور ادبی کارنامہ ہے جس کی اردو میں دوسری مثال نہیں مل سکتی ہے۔ اس نوعیت کی لغات صرف انگریزی اورجرمن زبان میں ہی ہیں ۔جوکہ تاریخی اصول اور بیتی صدیوں سے لی ہوئی اسناد کے باعث یہ لغت برصغیر کے ایک ہزار سالہ تہدیبی اورتمدنی ارتقا کی بیس بہا دستاویز ہے ۔جس میں اس تہذیب کے ایک ایک لفظ کو محفوظ کر لیا گیا ہے۔ یہ نہ صرف آپ کیلئے بلکہ آپ کی آنے والی نسلوں کیلئے ایک گرانقدر تحفہ ہے۔یہ ادارہ اب ایک جلد پر مشتمل اردو لغت بنا رہا ہے جو کہ لغت نویسی کے بالکل جدید خطوط پر تیار کی جارہی ہے۔تمام دنیا بھر کے لغت شائع کرنے والے ادارے تقریبا تیس برس بعد لغات پر نظر ثانی کرتے ہیں اس لئے یہ ادارہ اب اس کام کو بھی شروع کر چکا ہے۔ مزید ایک گزارش اُردو ترقی بورڈ کے کرتا دھرتاحضرات سے کرنا چاہوں گا کہ اگر مخیر حضرات کے تعاون سے ممکن ہو سکے تو اس تاریخی لغت کو پاکستان بھر کی تمام تر نجی و سرکاری یورنیورسٹیوں کی لائبریریوں کا بطور خاص حصہ بنانا چاہیے تاکہ وہ جو اُردو سے محبت رکھتے ہیں وہ بھی اس سے استفادہ حاصل کر سکیں۔
مزید تفصیلات کیلئے اس ویب سائٹ پر رابطہ کر سکتے ہیں۔http://www.udb.gov.pk/index.html

حصہ
گزشتہ مضمونہم کس کے مورچے کے سپاہی ؟
اگلا مضموناللہ کے نام پر
مجھے ذوالفقار علی بخاری کہتے ہیں۔میں مثبت سوچ کا حامل انسان ہوں جسے مشاہدہ کر کے سیکھنے ،سکھانے اور دوسروں کی حوصلہ افزائی کرنا پسند ہے کہ ابلاغ عامہ اور بی ایڈ کی ڈگری نے کچھ مخفی صلاحیتوں کو بھی ابھار دیا ہے جس سے دوسروں کا بھلا کرنے کی جستجورہتی ہے ۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنے ماحول اوراردگرد موجودلوگوں سے سیکھنے کی کوشش کی ہے۔ زندگی کے تجربات و مشاہدات کو دوسروں سے بیان کرنا بھی دل چسپ مشغلہ لگتا ہے ،بچپن سے کچھ لکھنے کی خواہش ہوئی تو خاموش طبع ہونے کی وجہ سے قلم پکڑ کر اپنے احساسات و جذبات کو لکھ کر اس شوق کو مختلف رسائل وجرائد میں چھوٹی چھوٹی تحریریں بھیج کر پورا کیا

جواب چھوڑ دیں

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.