سابق نادرا چئیرمین علی ارشد حکیم کے ورثا پاکستانی عوام

NADRA SMS Scam

0
778

پاکستانی عوام کے پاس کرنے کو کچھ خاص کام باقی نہیں رہا ہے، اس بات کا اندازہ اس چیز سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ بے سروپا باتوں پر فورا سن کر عمل کر تے ہیں چاہے اس میں کوئی صداقت ہی کیوں نہ ہو۔ مجھے دو تین دن سے نادرا کے چیئرمین علی ارشد حکیم صاحب کے حوالے سے ایک افوہ پر لوگوں کی زبانوں پر امداد کا تذکرہ سن کر اس قدر ہنسی آئی ہے کہ اس کا آپ سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔ عوام میں اس قدر بھی شعور نہیں رہا ہے کہ وہ اس بات کو جان سکیں کہ عوام کی بھلائی کا اولین ذمہ ریاست کے سر ہے کوئی بھی ادارہ کا سربراہ پورے ملک کے لئے یا اس کے حوالے سے کوئی بھی رفاہی ادارے لوگوں میں خیرات ملک کے طول و عرض میں نہیں دے سکتا ہے ۔مگر بھئی ہم پاکستانی تو مفت کی چیزوں کے لئے مشہور ہییں جہاں سے بھی ملے گی وہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس سے قبل موبائل فون پر لوگ کال کر کے انعام کے بارے میں آگاہ کرتے تھے اور لوگوں سے رقوم بٹور لیتے تھے اور ہمارے سادہ دل لوگ انکے ہاتھوں بھی بے وقوف بن گئے تھے شاید اس امید پر کہ انکے ہاتھ کچھ دے کر کچھ زیادہ مل جائے۔ ہم نے سچ ہی سنا ہوا ہے کہ لالچ بری بلا ہے اور یہی بیماری ہی ہمیں کسی نہ کسی وجہ سے اکثر دھوکا کھانے میں مدد دیتی ہے۔

اس تحریر کا بینادی مقصد یہ شعور دینا تھا کہ لوگ اپنے زور بازو پر کما کر اپنی زندگی کا بوجھ سہ لیں تو بہتر ہے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا یا کسی سے مدد کی امید رکھنا ماسوائے خدا کے جائز نہیں ہے۔ یہاں یہ بات بتاتا چلوں کہ نادرا کی اس افوہ میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ علی ارشد حکیم کے حوالے سے کوئی رقم دی جا رہی ہے ۔اس سلسلے میں خود بھی لوگوں کو بتائیں اور شعور اجاگر کرنے میں مدد دیں شاید ایک قطرہ سے دریا بن جائے۔

لوگ علی ارشد حکیم صاحب کی رقم تو یوں حاصل کرنا چا ہ رہے ہیں جیسے وہ انکے قانونی ورثا ہوں اور فی الوقت یوں لگتا ہے کہ پوری پاکستانی عوام ہی انکے نام پر رقوم حاصل کر کے وراثت میں حصہ دار بننا چاہ رہی ہے۔

حصہ
گزشتہ مضمونمولوی مشتاق سے آج تک انصاف کا معیار
اگلا مضمونبچے من کے سچے
مجھے ذوالفقار علی بخاری کہتے ہیں۔میں مثبت سوچ کا حامل انسان ہوں جسے مشاہدہ کر کے سیکھنے ،سکھانے اور دوسروں کی حوصلہ افزائی کرنا پسند ہے کہ ابلاغ عامہ اور بی ایڈ کی ڈگری نے کچھ مخفی صلاحیتوں کو بھی ابھار دیا ہے جس سے دوسروں کا بھلا کرنے کی جستجورہتی ہے ۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنے ماحول اوراردگرد موجودلوگوں سے سیکھنے کی کوشش کی ہے۔ زندگی کے تجربات و مشاہدات کو دوسروں سے بیان کرنا بھی دل چسپ مشغلہ لگتا ہے ،بچپن سے کچھ لکھنے کی خواہش ہوئی تو خاموش طبع ہونے کی وجہ سے قلم پکڑ کر اپنے احساسات و جذبات کو لکھ کر اس شوق کو مختلف رسائل وجرائد میں چھوٹی چھوٹی تحریریں بھیج کر پورا کیا

جواب چھوڑ دیں

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.