معاشرتی رویے ،اعتدال پسندی اور اخلاقیات

1
486

گو مبشر لقمان ہمیشہ ثبوت ساتھ رکھ کر بات کرتے ہیں اور عین ممکن ہے کہ ان کے ثبوت درست بھی ہوں لیکن کیا ان کا طریقہ اور رویہ درست ہے؟یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے مجھ سمیت بہت سے پاکستانیوں کوحامد میر کے ڈی جی آئی ایس آئی پر الزامات پر نہیں بلکہ جیو کے طرز عمل اور رویے پر اعتراض ہوا تھا۔ہماری بد قسمتی ہے کہ اعتدال پسندی ہمارے کسی بھی طبقے میں باقی نہیں رہی۔جو کچھ جیو ماضی میں کرتا رہا وہی کچھ اے آر وائی کر رہا ہے۔یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے بوٹ پالش کے لیے کہا جائے کہ’’ اگر پرانی پالش جوتوں پر داغ لگانے لگے تو ہمارا نسخہ آزمائیں جوتے ایسے چمکیں گے کہ ان میں لال ٹوپی نظر آئے گی‘‘ ۔دوسری طرف جو فوج کے خلاف ہے وہ فوج کو ہر جگہ غلط ثابت کرنے میں لگا رہتا ہے اور جو مبشر لقمان کی طرح فوج کے حق میں ہے وہ فوج کے اگلے پچھلے تمام گناہ چھوڑ کر صرف حامد میر اور جیو پر تنقید کرتا نظر آتا ہے۔اورجو روشن خیال جیو اور حامد میر کی حمایت کر رہے ہیں وہ یہ بھول رہے ہیں کہ شاید آج بھی ایجنسیوں کے پے رول پر سب سے زیادہ جیو اور جنگ گروپ کے صحافی ہی ہونگے۔یہی حامد میر ممتاز قادری جیسوں کے خلاف کبھی نہیں بولا اور سلمان تاثیر کے قتل سے پہلے پانچ ہزار مفتیان کی طرف سے مرحوم کے واجب القتل ہونے پر مبنی فتووں کی جھوٹی خبر بھی اسی جنگ گروپ نے شائع کی تھی۔وہاں بھی غالبا پس منظر میں ’’امن کی آشا‘‘ کی طرح امن سے زیادہ کاروباری مقاصد پوشیدہ رہے ہونگے(یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ یہ لوگ مرحوم کو اپنا کاروباری حریف اور ان کی حلیف پنجابی قیادت انھیں اپنا سیاسی حریف تصور کرنے لگی تھی)۔احساس ذمہ داری نام کی کوئی چیز پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا میں کبھی نظر نہیں آئی۔مہر بخاری کا سلمان تاثیر کی شہادت سے پہلے کا انٹرویو کون بھول سکتا ہے کہ جس نے ان کے قتل کے عوامل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ [pull_quote_left]یہ درست ہے کہ صحافی کو نڈراور بے باک ہونا چاہیے لیکن تہذیب اور اخلاقیات بھی کچھ معنی رکھتی ہیں۔[/pull_quote_left]بہر حال جب مبشر لقمان کو پروگرام کرتے دیکھتا ہوں تو معذرت کے ساتھ لگتا ہے کہ ایک انتہائی ناشائستہ،بد تمیز اور بد تہذیب شخص پروگرام کر رہا ہے جس کالہجہ نا صرف ایک پولیس کے ایس ایچ او جیسا ہوتا ہے بلکہ وہ اپنے بلائے ہوئے مہمانوں کی توہین بھی کچھ اس طرح کر رہا ہوتا ہے کہ جیسے اس نے انھیں محض ٹی وی پر دکھا کر بہت بڑا احسان کر دیا ہے اورلہٰذا وہ جب اور جہاں چاہے انھیں ٹوک دے،ڈانٹ دے کچھ فرق نہیں پڑتا۔یہی رویہ کامران شاہد،جاوید چوہدری،کاشف عباسی اور خودحامد میر اپنائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ کوئی صحافی نہیں بلکہ چھٹے ہوئے غنڈے ہوں کہ جن کے سامنے اگر کوئی کچھ بولا تو یہ اس کے کپڑے پھاڑ دیں گے۔ایک طرف مبشر لقمان ہر دوسرے دن ڈاکٹر طاہر القادری کا انٹرویو ایسے کر رہا ہوتا ہے کہ جیسے اے آر وائی ان کی ملکیت ہے تو دوسری طرف کامران شاہد عمران خان کو ہر خاص موقع پر ایسے بلائے بیٹھا ہوتا ہے کہ جیسے وہ خود تحریک انصاف کا سیاسی کارکن ہے۔


صحافی چونکہ اسی معاشرے سے ہیں تو ہماری عوام کی اکثریت بھی اسی طرح کی سوچ کی حامل ہے۔مثال کے طور پر جو لوگ طاہرالقادری اور عمران خان کے خلاف ہیں وہ پہلے سے یہ طے کیے بیٹھے ہیں کہ دونوں نے گیارہ مئی کا پروگرام ایجنسیوں کے کہنے پر بنایا ہے۔اگر عمران خان ایجنسیوں کے اتنے ہی پسندیدہ تھے تو آج تک چار سیٹوں کی دھاندلی کا معاملہ کیوں حل نہیں ہو سکا؟جن لوگوں نے آئی جے آئی بنائی تھی انھوں نے عمران خان کے ساتھ دھاندلی کیسے ہونے دی؟اس نے خود تحریک انصاف کے لیے کوئی نئی آئی جے آئی بنا کر عمران خان کو الیکشن کیوں نہ جتائے؟میرے ایک قریبی دوست اور نامور کالم نگار نے گزشتہ انتخابات سے دو تین ماہ پہلے بتایا کہ ایجنسیوں کے لوگ اس کے اور بعض دوسرے بڑے کالم نگاروں کے پاس آتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں سپورٹ کرو عمران خان کو سپورٹ کرو۔اگر میرے دوست کی اس بات کو درست مان بھی لیا جائے تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ وہ (ایجنسیوں والے) جو کہہ رہے تھے وہ چاہ بھی وہی رہے تھے؟ان کا کالم نگاروں کو یہ پیغام دینا محض افواہ سازی نہیں تھا؟جبکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ میرا دوست ایک روشن خیال اورجمہوریت پسند صحافی ہے اور وہ ایجنسیوں کی دی ہوئی لائن پر نہیں چلے گا۔عمران خان اور طاہرالقادری کے مطالبات ہم سب بار بار ٹی وی پر سن چکے ہیں۔بے ثبوت شکوک و شبہات کے علاوہ اورایک باسٹھ تریسٹھ کی غیر حقیقی شرط کہ جس پر کوئی بھی پاکستانی پورا نہیں اتر سکتاکے علاوہ ان کے مطالبات میں کیا ایسی غلط بات ہے جسے ہم غلط کہہ سکیں؟کیا انتخابات شفاف نہیں ہونے چاہئیں؟اگر دھاندلی ہوئی ہے تو کیاانھیں انصاف نہیں ملنا چاہیے؟کیا آئی جے آئی کی طرز پر اس ملک میں ہمیشہ مینڈیٹ چرایا جاتا چاہیے؟کیا موجودہ نظام میں بڑی بڑی خرابیاں نہیں ہیں؟کیا ہم جیسے عام لوگ انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں؟عمران خان اور طاہر القادری کو ایجنسیوں کا بندہ کہنا ایسا ہی لگتا ہے کہ جیسے دوسری طرف کے انتہا پسند عوام ہمیشہ محترمہ شہید کو سکیورٹی رسک اور غدار کہتے رہے۔ہمیں بھی عمران خان اور طاہر القادری کا طرز سیاست نا پسند ہے اور خاص طور پر عمران خان کا دوغلا پن جوان کی آکسفورڈ کی تعلیم سے شروع ہو کرفرسودہ جرگہ سسٹم اوردہشت گرد کی حمایت تک چلا جاتا ہے ہم میں سے اکثر لوگ اس سے نفرت کی حد تک اختلاف رکھتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ہم ان کی ہر بات کو ہی غلط کہنا شروع کر دیں۔مانا کہ عمران خان طالبان خان ہے تو میاں نواز شریف کیا طالبان کے دشمن ہیں؟وہ دونوں بھائی تو بارہا انھیں اپنا بھائی کہہ چکے ہیں ۔یہی حال ڈاکٹرطاہر القادری کے پڑھے لکھے جمہوریت پسند روشن خیال مخالفین کا ہے۔بھائی اگر قومی اسمبلی سے لے کر ذرائع ابلاغ تک ہر جگہ معصوم شہریوں کے قاتلوں کا حمایتی انتہا پسندتکفیری ملا براجمان ہے اور ریاست کا بازو مروڑ کر دہشت گردوں سے مذاکرات کروا رہا ہے تو آپ کو طاہر القادری سے کیا تکلیف ہے؟کم از کم وہ قاتلوں کا حمایتی تو نہیں ہے، اپنا عقیدہ اور اسلام کسی پر مسلط کرنے کی بات تو نہیں کررہا۔

[pull_quote_left]روشن خیالی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم حق اور سچ کہنا بھول جائیں اور نئے بُت بنا کر پوجنا شروع کر دیں۔[/pull_quote_left]ہم سب کو اپنے رویوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ذاتی مشاہدہ اور آنکھوں دیکھا چھوڑ کر سنی سنائی پر یقین کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟نجم سیٹھی جیسے لوگ جو طاہر القادری اورعمران خان کو ایجنسیوں کی پیداوار بتاتے رہے ہیں وہ خود بتائیں کہ انھوں نے ساری عمر رپورٹنگ کہاں سے خبریں لے کر کی ہے؟چڑیا کس جیالے کانام ہے؟ سچ اور حقیقت پسندی وقتی طور پر برے لگ سکتے ہیں مگر اس کے علاوہ بہتری کا کوئی دیرپا حل ممکن نہیں ہوتا

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.