کرک نامہ کے مدیر فہد کیہر (ابوشامل) سے بات چیت

ِInterview with Fahad Kehar

0
604

فہد احمد کیہر (ابوشامل) انٹرنیٹ اور بلاگنگ کی دنیا کا ایک جانا پہنچانا نام ہے۔ آپ نہ صرف ابوشامل ڈاٹ کام پر طویل عرصے سے اردو زبان میں ذاتی بلاگ لکھ رہے ہیں بلکہ کرکٹ کے موضوع پر بننے والے پہلے بلاگ کرک نامہ کو بھی چلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ اردو وکی پیڈیا اور ڈان ڈاٹ کام کے لیے بھی مضامین اور بلاگز لکھتے رہے ہیں۔ ہم نے نوجوانوں کی دلچسپی کے لیے ان کا انٹرویو کیا جو پیش خدمت ہے۔

یوتھ پلگڈ: بلاگنگ سے منسلک ہوئے کتنا عرصہ ہوا اور اردو زبان میں بلاگنگ کرنے کی خاص وجہ؟
جواب: میں 2007ء کے اوائل میں حادثاتی طور پر بلاگنگ کی دنیا میں آ گیااور اس کے بعد پھر اسی دیار کا ہوگیا۔ پہلے ابوشامل کے نام سے ذاتی بلاگ www.abushamil.com پر لکھا کرتا تھا، گو کہ وہ بلاگ اب بھی موجود ہے لیکن وہاں سرگرمیاں بہت محدود ہیں، بیشتر وقت کرک نامہ پر گزرتا ہے، جس کا آغاز ہم نے سال 2011ء کی شروعات کے ساتھ کیا۔ اردو میں بلاگنگ کی پہلی وجہ تو یہی ہے کہ یہ وہ زبان ہے جس میں میں اپنی بات سب سے بہتر انداز میں کرسکتا ہوں اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ میں انٹرنیٹ کو پاکستان کے عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے ایک بہت اہم ذریعہ سمجھتا ہوں اور اردو کے علاوہ ایسی کوئی زبان نہیں سکتی جو بیک وقت پاکستان کے تمام لوگوں کو باآسانی سمجھ میں آ سکے۔ انگریزی بیرونی دنیا سے ہمارے رابطے کا بہت اچھاذریعہ ہے اور ہم انگریزی میں لکھ کر پاکستان کا بیرون ملک امیج اچھا بنا سکتے ہیں لیکن اگر ہم ملک میں عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنا چاہتے ہیں، کوئی مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو ہمیں اردو کا دامن تھامنا ہوگا۔ بس یہی دو وجوہات تھیں جس کی وجہ سے ابتداء ہی سے اردو سے منسلک ہوں۔

یوتھ پلگڈ: آپ سے کرک نامہ کے متعلق جاننا چاہیں گے کہ اس کا خیال کب اور کیسے آیا؟
جواب: درحقیقت کرک نامہ کا خیال تو اسی وقت ذہن میں کوندا تھا جب میں نے بلاگنگ کا آغاز کیا تھا، لیکن اس وقت کرکٹ کے موضوع پر بلاگ کا جو خاکہ میرے ذہن میں تھا، اسے عملی جامہ پہنانا مجھ اکیلے کے بس کی بات نہ تھی۔ اس لیے جی کڑا کرکے بیٹھا رہا یہاں تک کہ 2010ء کے آخری ایام میں ساتھی بلاگر محمد اسد کے سامنے کرکٹ بلاگ بنانے کی تجویز پیش کی۔ یہ خیال انہیں بہت پسند آیا اور پھر مشترکہ طور پر ہم نے 2011ء کے آغاز کے ساتھ ہی www.cricnama.com کی شروعات کر ڈالی۔ کرک نامہ کے لیے تمام تر منصوبہ سازی 2010ء کے آخری ایام میں ہوئی اور اسی سال دسمبر میں تکنیکی کام مکمل ہوا اور جب یکم جنوری 2011ء کو سال پہلا سورج طلوع ہوا تو کرک نامہ بھی ابھرنے کے لیے تیار ہوگیا۔

یوتھ پلگڈ: شروع میں کن مشکلات کا سامنا ہوا اور آپ نے ان کو کیسے حل کیا؟
جواب: سفر وسیلہ ظفر ضرور ہوتا ہے لیکن اس کے لیے سخت مراحل سے گزرنا بھی ضروری ہے ۔ کوئی بھی کامیابی قربانیاں مانگتی ہے، راہ میں سخت سے سخت مشکلات آتی ہیں اور پھر کہیں جاکر منزل نصیب ہوتی ہے۔ کچھ یہی کہانی کرک نامہ کی بھی ہے۔ 2011ء کے ورلڈ کپ میں قارئین کو میچ رپورٹوں کے ساتھ ساتھ تجزیے و تبصرے فراہم کرکے ہم نے بنیاد تو اچھی ڈالی لیکن کچھ مسائل آڑے آئے۔ سب سے پہلے تو تکنیکی مسائل تھے۔ ایک اردو بلاگ یا ویب سائٹ کو چلانے کے لیے انگریزی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تکنیکی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ انگریزی کے لیے تو بنے بنائے ٹولز موجود ہیں لیکن اردو کے لیے ہمیں ایسی چیزیں ڈیولپ کرنا یا کروانا پڑیں۔ دوسری جانب انگریزی کے مقابلے میں اردو پڑھنے والا حلقہ انٹرنیٹ پر خاصا محدود ہے، اس لیے ہمیں قارئین کی قابل ذکر تعداد تک پہنچنے میں خاصا وقت لگا جو بالعموم انگریزی کی ویب سائٹس کو نہیں لگتا۔ بہرحال، پہلے سال ہمیں نہ صرف بہت حوصلہ افزائی ملی بلکہ ہر مرحلے پر جہاں ہمیں ضرورت پیش آئی، اردو بلاگرز کی کمیونٹی نے ہمیں ہر طرح کی مدد پیش کی یہی وجہ ہے کہ میں کرک نامہ کو چند افراد کا نہیں بلکہ پوری اردو بلاگنگ کمیونٹی کا منصوبہ سمجھتا ہوں۔

یوتھ پلگڈ: جنگ، ایکسپریس اور بی بی سی اردو جیسی ویب سائٹس بھی کرکٹ کی خبریں فراہم کرتی ہیں تو پھر کرک نامہ ہی کیوں پڑھیں؟
جواب: کرک نامہ کا شروع ہی سے مقصد محض کرکٹ کی خبریں پیش کرنا نہیں تھا، اور نہ ہی ہم کبھی ‘سب سے پہلے، سب سے تیز’ کی دوڑ میں شامل ہوئے۔ ہمارا آغاز ایک بلاگ کی حیثیت سے تھا اور اب بھی ہماری اولین ترجیح کرکٹ کو ایسے زاویوں سے عام افراد کے سامنے لانا ہے جو عام طور پر ہمارا روایتی میڈیا نہیں کرتا۔ ہم کرکٹ کے کھیل سے محبت کرنے والے لوگ ہیں اور کبھی بھی یہ نہیں چاہتے کہ لوگ اس کھیل سے نفرت کریں۔ ہمارا میڈيا بدقسمتی سے اس کھیل کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ کرکٹ کی چار خبریں سننے کے بعد عام آدمی یہی کہتا ہے کہ “ہٹلر نے بالکل ٹھیک کیا تھا، اس کھیل کو ہی ختم کردینا چاہیے۔” ہم اس کھیل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، کیونکہ یہ ان معدودے چند عوامل میں سے ایک ہے جس پر پوری قوم متحد ہوتی ہے۔ چاہے بلوچستان میں حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں لیکن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے پر کوئٹہ اور زیارت کی سڑکوں پر جشن منایا جاتا ہے، پھر گلگت سے لے کر گوادر اور تھرپارکر سے لے کر چترال تک، ہر مقام پر پاکستانیوں کو متحد کرنے والی جو چند چیزیں ہیں ان میں کرکٹ سب سے نمایاں ہے، تو ہم آخر کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ ہم لوگوں کو اس کھیل سے نفرت دلائیں؟ ہر گز نہیں۔ اس لیے اس کھیل کے ہر ایسے قابل ذکر پہلو پر روشنی ڈالیں گے جس سے لوگ اس جانب راغب ہوں کیونکہ ہمیں من حیث القوم اس وقت مثبت سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔

یوتھ پلگڈ: کیا نوجوان لکھاری بھی کرک نامہ کو اپنی تحاریر اور مضامین بھیج سکتے ہیں؟
جواب: یہی پہلو تو کرک نامہ کو دیگر کرکٹ اخبارات، جرائد اور ٹیلی وژن اور ریڈیو چینلوں سے جدا کرتا ہے کہ ہم نوجوان لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ آگے آئیں اور کرکٹ کے موضوع پر اپنے تجزیے، تبصرے اور معلومات کو ہم تک پہنچائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم پاکستان میں کرکٹ کے کھیل کے حوالے سے روایتی صحافت سے تنگ تھے، اس لیے نہ صرف ہم نے نیا آہنگ اپنایا بلکہ مزید کرکٹ شیدائیوں کو بھی مدعو کیا کہ وہ بھی بتائیں کہ کرکٹ ان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے اور وہ اس کھیل کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ اس آواز پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے کئی لوگوں نے لبیک کہا جن میں پاکستان کے علاوہ بھارت، ہانگ کانگ اور انگلستان کے باسی بھی شامل ہیں اور اس وقت مستقل لکھنے والوں کی خاصی تعداد موجود ہے جو کرک نامہ کے لیے قلم آزما ئی کرتی ہے۔

یوتھ پلگڈ: مستقبل میں آپ کرک نامہ کو کہاں دیکھ رہے ہیں؟
جواب: ‘ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے’، لیکن اس کے باوجود کرک نامہ سے مستقبل میں خاصی امیدیں وابستہ ہیں۔ ساڑھے تین سال کا عرصہ تو بخوبی گزر چکا ہے اور ہم نے اس عرصے میں خود کو خاصی حد تک منوا لیا ہے اور اب ہماری کوشش ہوگی کہ کرک نامہ کو کرکٹ کے لیے ‘ون اسٹاپ شاپ’ بنا دیں کہ جو بھی کرکٹ کا شیدائی ہو اور اردو جانتا ہو اس کے لیے کرک نامہ سے بہتر کوئی مقام نہ بنے۔ اس مقصد کے حصول کےلیے مستقبل کے کچھ منصوبے بنائے ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ اگلے ورلڈ کپ سے قبل ان میں سے چند منظرعام پر آ جائیں گے۔

یوتھ پلگڈ: انٹرنیٹ پر اردو زبان کو فروغ دینے کے لیے کیا کچھ کیا جانا چاہیے؟
جواب: اردو زبان کے فروغ کے لیے سب سے اہم کام یہ ہے کہ ہم اسے اپنے اظہار خیال کی زبان بنائیں۔ اس سے ایک تو ہمارا انگریزی کے مقابلے میں احساس کمتری جاتا رہے گا اور دوسری اہم بات یہ کہ انٹرنیٹ پر جس قدر معلومات اردو میں موجود ہوگی، نئے انٹرنیٹ صارفین کو بھی اعتماد ملے گا کہ ہر موضوع پر اردوزبان میں معلومات مل جاتی ہے، اس لیے وہ بلاوجہ انگریزی میں تلاش ہی نہیں کرے گا۔

یوتھ پلگڈ: ہمارے نوجوانوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: نوجوانوں کی بڑی تعداد آجکل اپنا قیمتی وقت منفی سرگرمیوں میں ضائع کررہی ہے ۔ اسمارٹ فونز نے انہیں مثبت سرگرمیوں سے مزید کہیں دور جا پھینکا ہے، مطالعے کا رحجان روز بروز کم سے کم ہوتا جا رہا ہے حالانکہ اب تو اپنی دلچسپی کے موضوعات میں بھی مطالعہ نہیں کیا جاتا۔ اس رحجان کی حوصلہ شکنی کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں میں کھیل جیسی مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے اور کرک نامہ اس سمت میں اپنی پوری کوشش کررہا ہے اور آئندہ بھی کرے گا۔

جواب چھوڑ دیں

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.