وسوسے، اندیشے اور سوال

0
308
Photo by AFP.

حامد میر کو گولیاں لگیں، وہ سارے رستے نعرہ تکبیر اور پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کرتے رہے، کلمہ طیبہ کا ورد کرتے رہے، انھوں نے اپنے ساتھی کو فون کر کے بتایا کہ انھیں گولیاں لگی ہیں، مگر وہ جیو کے روح رواں جیو پر بیپر نہیں دے دسکے۔ انھیں آپریشن کے بعد ہوش میں آءے کافی وقت گزر چکا ہے، جیو کے مطابق بات چیت بھی کر رہے ہیں، ہسپتال میں ٹہل رہے ہیں، مختلف سیاسی قیادتوں سے مل بھی رہے ہیں مگر کسی دوسرے یا اپنے چینل جیو پر اس واقعہ کے حوالے سے بیس تیس سیکنڈ کے ہی سہی اپنے تاثرات ریکارڈ نہیں کروا پاءے، ابھی تک جو کچھ بھی ہے ان کے بھاءی، دوستوں اور جیو کی زبانی ہے، کیا ان کی جان کو فون پر بھی خطرات لاحق ہیں؟ اگر ایسا ہے تو جیو اب تک ان کا بیان کیوں ریکارڈ نہیں کر رہا؟ جیو نے بڑی بہادری کی اور آءی ایس آءی چیف کی فوٹو تو دکھا دی مگر انھیں ہسپتال میں دکھا کیوں نہیں رہا؟ گو پاکستان کی ایجنسیوں کا کردار پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہہمیشہ متنازعہ اور آءی جے آءی کی تشکیل جیسے کارناموں کی وجہ سے شرمناک بھی رہا چنانچہ اس پس منظر میں ایجنسیوں پر کسی بھی طرح کا شک کیا جا سکتا ہے اور جیو یا حامد میر کی طرف سے لگاءے گءے تمام الزامات درست بھی ہو سکتے ہیں۔ مگر ان سوالوں کے جواب کے بغیر کسی کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حامد میر کا کیس ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ ہوتا چلا جا رہا ہے اس لیے ان کے پردہ پر ظاہر ہونے تک سب کو تھوڑا صبر سے کام لینا چاہیے۔ تاہم گزرتے وقت کے ساتھ مختلف اندیشے اور وسوے جنم لے رہے ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ سے پاکستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ نا تو معمولی ہے اور نا ہی اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ یہ سب کسی بڑے طوفان کے امکان ظاہر کر رہا ہے۔ اس ماحول میں کیا کیا ممکن ہے اس پر محض مفروضے قاءم کیے جا سکتے ہیں۔ اور میری ناقص راءے میں ایسے غیر معمولی حالات میں آنے والے اچھے برے وقت کا مفروضوں کی بنیاد پر جاءزہ لینا کوءی بری بات نہیں۔

کچھ سوال اور مروضے پیش خدمت ہیں۔

نواز لیگ کے طالبان کے قریب ہونا ایک فطری امر ہے لیکن طالبان کے مسلسل دھماکوں کے باوجود ان کی خاموشی اور پیپلز پارٹی اور اے این پی کا بھی اس سب کے باوجود مذاکراتی عمل پر دھیمہ رویہ کچھ سوال اٹھا رہا ہے۔۔۔۔

۱- کیا ماضی میں شاھین فورس بنانے والی مسلم لیگ نواز آج پیپلز پارٹی سمیت بعض دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں اور جیو جیسے میڈیا کے ساتھ مل کر طالبان کو جمہوریت کے لیے ڈھال کے طور پر فوج کے خلاف استعمال کرنا چاہ رہے ہیں؟
ایسی کسی بھی صورت دو باتیں ہو سکتی ہیں ایک تو یہ کہ پاکستان کی فوج کے اوپری حصے کو انقلاب ایران کی طرح گرا دیا جاءے۔ ممکن ہے کہ ایسا ہو بھی جاءے کیونکہ مشرف پر دونوں حملوں میں فوج کے نچلے درجے کے اہلکار ملوث پاءے گءے تھے۔ لیکن اگر یہ مفروضہ ناکام ہوتا ہے تو دوسری صورت یہ ہے کہ پاکستان کی فوج شہشاہ ایران کی فوج نہیں ہے کہ جہاں عوامی طاقت سے کسی بادشاہ کا تختہ الٹا، فوج میں اوپر کے لیول پر صفاءی کی اور انقلاب آ گیا۔ اس کا کوءی بادشاہ نہیں ہے، یہ خود ہی اپنی مالک و مختار ہے اور مختلف وجوہات کی بنیاد پر عوام میں اپنی جڑیں بھی رکھتی ہے، اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے طالبان کی حمایت اور جواب میں طالبان کی طرف سے سیاسی جماعتوں کی حمایت میں اپنے بنانے والوں سے لڑاءی کی صورت میں فوج کی جڑیں عوام مین اور بھی مظبوط ہو جاءیں گی۔ جس سے ملک طویل خانہ جنگی کی لپیٹ میں چلا جاءے گا اور گلی گلی خون بہے گا۔
اس کا ایک ضمنی سوال یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ پاکستان کے سرمایہ دار اور یہاں موجود ملٹی نیشنل کمپنیاں ورلڈ ٹریڈ آرڈر کی مکمل تکمیل کے لیے آپس میں مل کر پاکستانی افواج اور آءی ایس آءی کو ہمیشہ کے لیے کمزور اور خاموش کرنا چاہ رہی ہوں؟

۲- کہیں ایسا تو نہیں کہ نواز حکومت جنگ گروپ کے بعض لوگوں کو شہ دے کر ایجنسیوں کے ذریعے میر شکیل کے سے اپنا پرانہ حساب چکتا کرنا چاہ رہی ہو؟

۳- ایک دور میں جب حامد میر اوصاف کے مدیر ہوا کرتے تھے تو ان دنوں وہ جنگ گروپ کو کھلا چیلنج کرتے تھے جو میر شکیل کی بادشاہ طبعیت کو زیادہ پسند نہیں تھا، آج غلط یا درست حامد میر کا قد بہت بلند ہو چکا ہے اور وہ اپنے ادارے سے بھی ٹکر لینے کی استطاعت رکھتے ہیں تو کہیں ایسا تو نہیں کہ جیو ہی حامد میر کے کسی پرانے بیان کو لے کر انھیں پھنسانے کی کوشش کر رہا ہو؟

اس کے علاوہ ہمارے وہم و گمان سے باہر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ روز ہی کچھ نا کچھ بڑا ہو رہا ہے۔ لگتا ہے نتیجہ آنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ اور امید کر سکتے ہیں کہ اگلے چند دنوں میں تمام صورتحال واضع ہو جاءے گی

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.